.

عراق میں لڑائی کے لیے ایران میں رضاکاروں کی بھرتی

چوبیس گھنٹے میں 4200 افراد کی رجسٹریشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں شدت پسند سنی تنظیم دولت اسلامیہ عراق و شام [داعش] کے مقابلے کے لیے ایران میں رضاکار شیعہ جنگجوؤں کی بھرتی کا عمل جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق عراق میں لڑائی کے لیے کربلا، نجف، بغداد اور سامراء کے مقدس مزارات کے دفاع نام پر ایرانی رضاکاروں کی رجسٹریشن جاری ہے۔

خبر رساں ایجنسی "فارس" کے مطابق ایران میں ہزاروں افراد عراق میں کربلا اور نجف سمیت دیگر مقدس مقامات کے دفاع اور دہشت گروں سے لڑائی کے لیے بغداد جانے کو تیار ہیں۔

فارس کے مطابق تہران سٹی کونسل کے رکن محمد رجا زمردیان کا کہنا ہے کہ عراق میں شیعہ مزارات اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے جنگ میں حصہ لینے والوں کے لیے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ جو شخص رضاکارانہ طور پر خدمات پیش کرنا چاہے وہ اپنی رجسٹریشن کرا سکتا ہے۔

مسٹر زمردیان کا کہنا ہے کہ عراق میں لڑائی کے لیے رجسٹریشن کے آغاز کے چوبیس گھنٹوں کے دوران 4200 افراد نے اپنے نام لکھوائے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران میں عراق میں جنگجو بھجوانے کے لیے رجسٹریشن کا سلسلہ ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب دوسری جانب تہران حکومت کا کہنا ہے کہ وہ عراق کے معاملے میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

گذشتہ روز ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف بغداد کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے لیکن ایرانی فوج یا جنگجو عراق نہیں بھجوائے جائیں گے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ملک کے طاقتور عسکری فورم پاسداران انقلاب اور دیگر عسکری تنظیمیں عراق میں شیعہ مفادات کے تحفظ کے لیے مداخلت کی حامی ہیں جبکہ در پردہ ایرانی حکومت بھی شیعہ عسکریت پسندوں کو عراق بھجوانا چاہتی ہے۔