.

بغداد میں موجود امریکی سفارتی عملے کی منتقلی شروع

150 امریکی میرینز کی بغداد آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے بغداد میں اپنے سفارتخانے کی سیکیورٹی بڑھانے کے ساتھ وہاں موجود اپنے عملے کی تعداد کمی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی کے مطابق: "عراق کے کچھ علاقوں میں جاری جارحیت اور غیر یقینی صورتحال کے باعث بغداد کا سفارتخانہ وزارت خارجہ کے مشورے کے ساتھ اپنے عملے کی موجودگی کے بارے میں نظر ثانی کر رہا ہے۔"

انہوں نے بتایا کہ بغداد میں موجود عملے کے ساتھ کچھ اضافی سرکاری سیکیورٹی عملہ بھی تعینات کیا جائے گا جبکہ باقی عملے کو عارضی طور پر بصرہ اور اربیل کے قونصل خانوں اور عمان میں موجود عراق سپورٹ یونٹ میں منتقل کر دیا جائے گا۔

"اس سب کے باوجود عراق میں موجود سفارتی عملے کی بڑی اکثریت کو اپنی جگہ برقرار رکھا جائے گا اور سفارتخانہ قومی سلامتی مشن کو پورا کرنے کے لئے پوری طرح سے تیار ہو گا۔"

بغداد میں موجود امریکی سفارتخانہ دارلحکومت کے محفوظ ترین علاقے گرین زون میں واقع ہے۔ اس سفارتخانے میں 5000 افراد پر مشتمل عملہ موجود ہے جس کی وجہ سے دنیا میں سب سے بڑی امریکی سفارتی پوسٹ ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے عراق کا سفر کرنے والے امریکی شہریوں کو احتیاط برتنے کا کہا اور عراق کے صرف چند علاقوں تک محدود رہنے کی ہدایت کی۔ امریکی وزارت خارجہ نے اتوار کی شام کو عراق سے متعلق سفری وارننگ جاری کی ہے اور کہا ہے کہ امریکی شہری صرف انتہائی ضرورت کے تحت ہی عراق کا سفر کریں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بغداد میں موجود عملے کی منتقلی کی وجہ سے سفارتخانہ صرف قونصلر سروسز ہی فراہم کرسکے گا مگر دنیا بھر میں کہیں بھی موجود امریکی شہریوں کو کسی بھی سفارتخانے یا قونصل خانے سے ایمرجنسی سروسز حاصل کر سکتے ہیں۔

ایک عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی نےایک بیان میں کہا ہے کہ فوجی حکام کی ایک معقول تعداد بغداد میں موجود وزارت خارجہ کی عمارات کی حفاظت میں مصروف ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سفارتخانے کے عملے کو کمرشل، چارٹر اور وزارت خارجہ کے جہازوں میں منتقل کیا جا رہا ہے مگر کربی کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ کی درخواست پر امریکی فوج ائیر لفٹ کے لئے بھی تیار ہے۔ ایک فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ تقریبا 150 میرینز کو سفارتخانے کی سیکیورٹی میں معاونت کے لئے بھیجا جا چکا ہے اور وہ سفارتخانے میں پہنچ چکے ہیں۔

دولت اسلامی عراق و شام [داعش] سے تعلق رکھنے والے القاعدہ نواز جنگجوئوں نے بغداد کے شمال میں موجود علاقوں کا بڑا حصہ قبضے میں لے لیا ہے۔ داعش کی عراقی دارالحکومت پر پیش قدمی کی وجہ سے 70 لاکھ افراد کے اس شہر میں سیکیورٹی کے اقدامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

بغداد کے پولیس اور ہسپتال ذرائع کے مطابق سیکیورٹی کو سخت کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود شہر میں ہونے والے دھماکوں کے سلسلے کے نتیجے میں تقریبا 15 افراد جاں بحق جبکہ 30 زخمی ہو گئے ہیں۔