.

عراق، عرب بہاریہ کی تحریک مزاحمت ہے: سابق نائب صدر

موجودہ تحریک کا ہدف مالکی کی فرقہ وارانہ حکومت کا خاتمہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سابق نائب صدر طارق الہاشمی نے عراق کی تازہ صورت حال کے بارے میں کہا ہے یہ یہ عرب بہاریہ کی تحریک مزاحمت ہے اور اس کا ہدف وزیر اعظم نورالمالکی کی فرقہ وارانہ حکومت کا خاتمہ ہے۔

'' العربیہ '' کے ذیلی ٹی وی چینل '' الحدث '' سے انٹرویو میں انہوں نے کہا '' میں بڑی بے تکلفی سے بولتا ہوں کہ میں جانتا ہوں میرے ملک میں کیا ہو رہا ہے۔''

انہوں نے مزید کہا'' میں محتاط ہو کر کہتا ہوں یہ ایک انقلاب ہے جس میں تمام عراقی عوام نے حصہ لیا ہے۔ ''

واضح رہے سابق نائب صدر 2012 میں عراق سے اس وقت فرار ہو گئے تھے جب انہیں دو افراد کی ہلاکت کے حوالے سے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ آجکل طارق الہاشمی ترکی میں مقیم ہیں۔

انہوں نے میڈیا میں موصل کے حوالے سے آنے والی خبروں کو رد کرتے ہوئے کہا '' آج ذرائع ابلاغ اس چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، میں پوری قوت کے ساتھ یقین رکھتا ہوں یہ ایک بڑا جھوٹ ہے کیونکہ اس کی شہادت یہ ہے کہ موصل سے نورالمالکی کی افواج کو محفوظ انداز میں واپس جانے دیا گیا ہے۔''

واضح رہے اسی دوران ایران کی خصوصی آپریشنز کی ذمہ دار قدس فورس اس وقت عراق میں ہے، قدس فورس ایران سے باہر کے آپریشنز انجام دیتی ہے اس کا کمانڈر قسیم سلیمانی نورالمالکی سے بھی مل چکا ہے۔ ''

دریں اثناء ایک عراقی ذمہ دار نے ممتاز برطانوی اخبار کو بتایا ہے کہ '' ایران نے جہادیوں کے خلاف لڑنے کے لیے اپنے 2000 فوجی عراق بھجوا دیے ہیں ۔''

تاہم اسلامی جمہوریہ نے خبردار کیا ہے کہ '' عراق میں ہونے والی کوئی بھی بیرونی فوجی مداخلت بحران کو بڑھائے گی۔'' عراق کا موقف امریکا کی طرف سے یہ اعلان آنے پر سامنے آیا ہے کہ'' امریکا اپنے جنگی بحری جہاز خلیج میں بھجوا رہا ہے۔''