.

عراق میں انقلابی قبائل کا دارلحکومت کی سمت مارچ

بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اردگرد جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ کے نامہ نگار نے بغداد سے اپنے مراسلے میں دارلحکومت کے بین الاقوامی ہوائے اڈے کے شمالی علاقے میں شدید جھڑپوں کی اطلاع دی ہے۔ جھڑپوں کے دوران ایئرپورٹ کی مرکزی عمارت کو ھاون راکٹوں سے حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ان حملوں کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصان کا ابتک اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔ ذرائع کے مطابق ہوائی اڈے پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کے بعد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

اس سے پہلے عراق کے انقلابی قبائل کے ترجمان ابوعبد النعیمی نے 'العربیہ' کو فون پر بتایا تھا کہ انقلابی قبائل نے بغداد کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ یہ پیش قدمی قبائل کی فوجی قیادت کے بغداد سے باہر اجلاس کے بعد شروع کی گئی۔

ابوعبد النعیمی نے بتایا کہ صلاح الدین، الحویجہ، الرشاد اور دیالی کے تمام علاقے انقلابی قبائل کے کنڑول میں ہیں جبکہ بعقوبہ شہر کے قبضے کے لیے جنگ جاری ہے۔

ادھر الانبار سے تعلق رکھنے والے قبائل کے رہنما علی الحاتم نے بتایا کہ اگر نوری المالکی اپنی فوج نکال لیں تو وہ الانبار گورنری کو داعش سے پاک کرا لیں گے۔

علی الحاتم نے وزیر اعظم نوری المالکی پر الزام لگایا کہ انہوں نے عراق عوام کو اس افراتفری سے دوچار کیا ہے۔

عراقی محاذ جنگ پر لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال میں حالیہ پیش رفت تلعفر، بیجی اور تکریت پر نوری المالکی فوج کی بمباری تھی جس میں عراق اور شام کی سرحد پر واقع تلعفر میں کم سے کم دس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔