.

فلسطینی اسپیکر سمیت مزید 40 فلسطینی گرفتار

لاپتا یہودیوں کی تلاش کے لیے اسرائیلی فوج کا کریک ڈاؤن جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے مقبوضہ غرب اردن میں فلسطینیوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران آج [سوموار کو] علی الصباح فلسطینی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز الدویک سمیت کم سے کم چالیس افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

العربیہ نیوز کے نامہ نگار کے مطابق گذشتہ ہفتے تین یہودی طلباء کی پراسرار طور پر گمشدگی کے بعد مشتبہ افراد کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں جاری سرچ آپریشن کے دوران حماس کے مرکزی رہ نما اور اسپیکر پارلیمنٹ ڈاکٹر عزیز دویک کو الخلیل شہر میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لے لیا گیا۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں اسرائیلی فوج نے سیمت کے بھاری بلاکس اور رکاوٹیں کھڑی کرکے شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

عین شاہدین کے مطابق عین دربخا کالونی میں اسرائیلی فوج نے ایک مکان کا محاصرہ کرکے اس میں گھسنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر اسرائیلی فوج کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں کم سے کم تین فلسطینی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ عین دربخا کالونی ہی میں گھر گھر تلاشی کی کارروائی میں حماس کےدو کارکنوں کو حراست میں لیے جانے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی حماس کارکنوں اکرم اور نور القواسمہ کو حراست میں لینے کے بعد واپس چلے گئے تاہم گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کم سے کم ایک سو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں اکثریت حماس رہ نماؤں کی بتائی جاتی ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کو اطلاع ملی ہے کہ گذشتہ جمعرات کو لاپتا ہونے والے تینوں یہودی لڑکے تاحال مغربی کنارے ہی میں کسی خفیہ مقام پر ہیں۔

ذرائع کے مطابق سیکیورٹی ادارے مغوی یہودیوں کے ٹھکانے کی طرف بڑھ رہے ہیں تاہم ان کی رہائی میں بعض پیچیدگیاں حائل ہیں جن کے باعث آپریشن مکمل ہونے میں وقت لگے گا۔ ذرائع کایہ بھی کہنا ہے کہ تینوں یہودی طلباء کو حماس کے ایک خفیہ سیل نے یرغمال بنا رکھا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعرات کو فلسطینی شہر الخلیل سے تین یہودی لڑکے پراسرار طورپر لاپتا ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد اسرائیل کی ساری ریاستی مشینری ان کی تلاش میں چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر مصروف عمل ہے تاہم ابھی تک ان کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔

فلسطین کے مقبوضہ غرب اردن میں گذشتہ جمعرات کو لاپتا ہونے والے تین نو عمر یہودیوں کی تلاش میں ناکامی کے بعد اسرائیلی قیادت حواس باختہ ہو گئی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے پہلے تینوں یہودیوں کے اغواء کی ذمہ داری فلسطینی اتھارٹی پر عائد کی لیکن کل اتوار کے روز انہوں نے یہ الزام اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے سر تھونپ دیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے الزامات کے جواب میں حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زھری نے کہا کہ نیتن یاھو کے 'بھونڈے' الزامات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ وہ فلسطینی نیوز ایجنسی 'معا' سے گفتگو کر رہے تھے۔ سامی ابو زھری نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے حماس کا مورال کم کرنے اور تنظیم سے تعلق رکھنے والوں کے حوصلے پست کرنے کی جو مہم شروع کر رکھی ہے وہ کسی صورت میں کامیاب نہیں ہوگی۔

ترجمان نے کہا کہ مغربی کنارے میں حماس کے کارکنوں اور رہ نماؤں کی اندھا دھند گرفتاریوں کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور ان کی تمام تر ذمہ داری صہیونی حکومت پر عائد ہو گی۔ حماس نیتن یاھو کے بزدلانہ الزامات سے ہرگز خوف زدہ نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ اور مغربی کنارے میں جو کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے وہ صہیونی فوج، خفیہ اداروں اور حکومت کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔ حماس رہ نما نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے منظم ریاستی جرائم کی روک تھام کے لیے فوری اقدمات کرے۔

نیتن یاھو کے الزامات

قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خفیہ اداروں کو یہ خبر ملی ہے کہ جمعرات کے روز لاپتا ہونے والے یہودی آباد کاروں کو حماس نے اغواء کر رکھا ہے۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق نیتن یاھو کے اس بیان کے منظر عام پر آنے تک مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں چھاپوں کے دوران حماس سے وابستہ کم سے کم 80 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں حماس کے اہم رہ نما، طلباء اور مجلس قانون ساز کے کئی ممبران بھی شامل ہیں۔

تل ابیب میں وزارت دفاع کے ہیڈکواٹرز میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاھو نے کہا کہ "جو بات میں نہیں کہنا چاہتا تھا وہ مجھے کہنا پڑ رہی ہے۔ یہ کہ تین یہودی آباد کاروں کو حماس کے ارکان نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ وہی حماس جس کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے مل کر فلسطین میں قومی حکومت تشکیل دی ہے۔ حماس کی شراکت سے بننے والی حکومت بھی سنگین خطرہ ہے"۔

قبل ازیں اسرائیلی فوج کی جانب سے سامنے آنے والے ایک بیان میں بھی کہا گیا تھا کہ تین یہودی آباد کار لاپتا نہیں ہیں بلکہ انہیں فلسطینی مزاحمت کاروں نے منظم طریقے سے اغواء کر رکھا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے غائب ہونے والے تینوں یہودی آباد کاروں کی شناخت جاری کی ہے۔ تینوں کی عمریں سولہ سے انیس سال کے درمیان ہیں اور وہ بیت لحم اور الخلیل شہر کے درمیان قائم "غوش عتصیون" یہودی کالونی کے ایک دینی مدرسے میں زیر تعلیم تھے۔ ان میں سے ایک کے پاس امریکی شہریت بھی بتائی جاتی ہے۔