.

مصر میں اخوان المسلمون سے وابستہ چین اسٹور بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری پولیس نے دارالحکومت قاہرہ میں اخوان المسلمون سے وابستہ لوگوں کے گراسری اسٹورز بند کردیے ہیں اور پولیس مخالف سائن اٹھانے والے دو کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس نے دوگراسری اسٹورز زاد اور سیودی کو اخوان المسلمون کے لیے کام کرنے کے الزام میں بند کیا ہے۔زاد چین کے مالک اخوان المسلمون کے سرکردہ رہ نما خیرت الشاطر ہیں۔ وہ مختلف سیاسی الزامات کی پاداش میں اس وقت جیل میں بند ہیں۔سیودی چین کے مالک کو بھی اخوان المسلمون سے تعلق کے شُبے میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن ان پر یہ الزام ثابت نہیں ہوسکا تھا۔

درایں اثناء پولیس نے دو کارکنان کو ایک سائن اٹھانے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔اس پر ''پولیس ہی ہراساں کرنے والی ہے'' لکھا ہوا تھا۔وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر ہراسیت کے خلاف مظاہرے میں حصہ لینے والے تھے۔

ان دونوں میں ایک بیس سال کا طالب علم ہے۔نادر اسامہ نامی اس طالب علم کا کہنا ہے کہ انھوں نے تو اس سائن کو اٹھایا ہوا بھی نہیں تھا اور نہ کچھ کیا تھا لیکن پولیس نے ہمیں کہا ہے کہ ان پر وزارت داخلہ کی توہین پر فرد الزام عاید کی جائے گی لیکن بعد میں انھیں رہا کردیا گیا ہے۔

مصری پولیس نے اخوان المسلمون سے وابستہ لوگوں کے اسٹورز کو بند کرانے اور انسانی حقوق کے دوکارکنان کی گرفتاری کا یہ کارنامہ صدر عبدالفتاح السیسی کے حلف اٹھانے کے ایک ہفتے کے بعد انجام دیا ہے۔

مصر میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ان کے جریدے ''وصلہ'' کی ایک ہزار کاپیاں ضبط کر لی ہیں اور اس پر حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام عاید کیا ہے۔پولیس نے اس کی چھپائی کا کام کرنے والے پرنٹنگ پریس کے ایک کارکن کو بھِی گرفتار کر لیا ہے۔