.

خلیجی ممالک کا یورپی وزرائے خارجہ اجلاس کا بائیکاٹ

اقدام بحرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کی جانب سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بحرین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عاید کرنے پر خلیجی ممالک نے سخت احتجاج کرتے ہوئے 23 جون کو لکسمبرگ میں ہونے والے یورپی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک باوثوق خلیجی سفارتی ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ خلیج تعاون کونسل اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس 23 جون کو منعقد ہونا تھا تاہم یورپی ممالک کی طرف سے انسانی حقوق کونسل میں بحرین کے خلاف قرارداد پیش کرنے پر خلیج نے اس کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل عبدالطیف الزیانی نے بائیکاٹ کے فیصلے کے بارے میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین آشٹن کو ایک مکتوب میں آگاہ کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ جنیوا میں 46 ممالک کے مندوبین کی دستخط شدہ ایک یادداشت اقوام متحدہ کے دفتر میں کی گئی۔ اس یادداشت میں بحرین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کونسل کے 26 ویں سالانہ اجلاس میں سوئس سفیر الیگذینڈر فاسل نے مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا۔ اس بیان میں بحرین میں طویل عرصے تک پرامن مظاہروں پر پابندی اور زیر حراست اپوزیشن کارکنوں کے منصفانہ ٹرائل کے لیے غیر جانب دار عدالتوں کی عدم موجودگی پر منامہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

بحرین کی جانب سے بھی انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس میں جوابی بیان جمع کرایا گیا جس میں یورپی ممالک کی طرف سے عائد الزامات کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ بحرین کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کمیٹی میں پیش کردہ قرارداد میں تصویر کا ایک رخ پیش کرنے اور حقائق سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے غلط اعداد و شمار کا سہارا لیا گیا ہے۔