.

قاہرہ: 30 رکنی نئی مصری کابینہ کی حلف برداری

کابینہ میں وزارت اطلاعات و نشریات کا قلمدان شامل نہیں کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے نو منتخب صدر فیلڈ مارشل [ریٹائرڈ] عبدالفتاح السیسی نے منگل کے روز مصر کی نئی کابینہ سے حلف لیا۔ حلف برداری کی یہ تقریب قاہرہ کے صدارتی محل میں ہوئی جسے سرکاری ٹی وی نے براہ راست نشر کیا۔

چار خواتین اور کئی ٹیکنو کریٹس پر مشتمل اس کابینہ کی سربراہی وزیر اعظم ابراہیم محلب کر رہے ہیں جو کہ پچھلے پانچ ماہ سے بطور نگران وزیر اعظم اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ ابراہیم محلب، عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد سے وزارت عظمٰی کا عہدہ سنبھالنے والے دوسرے شخص ہیں۔ صدر السیسی نے بطور خاص محلب کو اس منصب پر کام جاری رکھنے کو کہا ہے۔

عبدالفتاح السیسی نے گذشتہ ماہ صدارتی انتخاب میں اپنے مدمقابل کو بھاری ووٹوں سے شکست دینے کے بعد جون کے اوائل میں صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا تھا۔ السیسی اس سے پہلے مصر کی طاقتور فوج کے سربراہ اور وزیر دفاع کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مصری صدر کا کہنا تھا کہ ملک کی سیکیورٹی اور معاشی حالت کو سنوارنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ حسنی مبارک کی اقتدار سے بیدخلی کے بعد سے پیدا ہونے والے افراتفری کو ختم کریں گے اور ملک کے مستحکم مستقبل کے لئے کام کریں گے۔

فیلڈ مارشل السیسی نے معزول صدر مرسی کے حامیوں اور جماعت کا نام لیے بغیر کہا کہ مصری حکومت اور شہریوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کوئی رو رعایت نہیں کی جائے گی۔

محمد مرسی کی معزولی کے بعد سے ان کے حامیوں نے تقریبا روزانہ ہی مظاہروں کا اہتمام کیا جنہیں منشتر کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے طاقت استعمال کی جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے جبکہ ہزاروں زیر حراست ہیں۔ مرسی سمیت اخوان المسلمون کی اعلی قیادت کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور اب ان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات کی سماعت جاری ہے۔

مصر کی تاریخ میں پہلی بار کسی کابینہ میں وزارت اطلاعات و نشریات کا قلمدان شامل نہیں کیا گیا۔ وزارت اطلاعات کئی دہائیوں تک سرکاری میڈیا کو کنڑول کرتی رہی تاکہ اسے حکومتی موقف اور پالیسیوں کے حق میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکے۔

وزارت اطلاعات کی غیر موجودگی میں اب میڈیا اور پریس پر نظر رکھنے کے لئے ایک آزاد ادارے کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔

سنہ 2011ء میں حسنی مبارک کی اقتدار سے بیدخلی کے بعد سے سماجی کارکن اور آزاد میڈیا کے حق میں وکالت کرنے والے حلقوں کا مطالبہ رہا ہے کہ وزارت اطلاعات اور سرکاری میڈیا ختم کر دیا جائے۔ حسنی مبارک کی معزولی کے بعد قائم ہونے والی عبوری فوجی کونسل نے پہلے تو یہ مطالبہ مان لیا مگر اس کے بعد وزارت اطلاعات دوبارہ بحال کر دی۔

نئی مصری پارلیمنٹ کے پاس یہ مینڈیٹ ہے کہ وہ ایسا قانون پاس کرے جس سے میڈیا کو منظم کرنے والا آزاد و خودمختار ادارہ تشکیل دے سکے۔