.

نوری المالکی ایران کا وفادار ملازم ہے: عراقی مفتی

"بغداد، کو تہران کا پائیں باغ نہیں بننے دیں گے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں اہل سنت مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ایک سرکردہ عالم دین اور مفتی ڈاکٹر رافع الرفاعی نے شیعہ عالم دین آیت اللہ علی السیستانی کے اس فتویٰ نما بیان پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے عوام سے دہشت گردوں کے خلاف اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے ہتھیار اٹھانے پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ "وزیر اعظم نوری المالکی کی حیثیت ایران کے ایک معمولی ملازم سے زیادہ نہیں ہے۔"

العربیہ نیوز چینل کے برادر نیٹ ورک "الحدث" سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ الرفاعی نے کہا کہ عراق میں فرقہ واریت کا کوئی جواز نہیں ہے۔ آیت اللہ علی السیستانی نے دہشت گردوں سے لڑنے کے لیے عوام کو ہتھیار اٹھانے کا کہہ کر ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ جب ایران نے عراق پر تسلط قائم کیا تو اس وقت علامہ السیستانی کہاں تھے؟ السیستانی کا فتویٰ کسی صورت میں قبول نہیں کیونکہ ہم عراق کو ایران کا پائیں باغ نہیں سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر الرفاعی نے ملک کے مختلف شہروں میں جاری شورش اور حکومت کی قیام امن میں ناکامی پر وزیر اعظم نوری المالکی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ نوری المالکی ایران کے ایک معمولی ملازم ہیں۔ وہ مظاہرین سے ان کے مطالبات پورے کرنے کے وعدے کرتے ہیں پھر مکر جاتے ہیں۔ المالکی بیرونی اشارے پر الرمادی اور فلوجہ شہروں کے عام مکینوں پر"داعش" کی آڑ میں بمباری کرا سکتے ہیں لیکن شہریوں کو ریلیف نہیں دے سکتے۔

ایک سوال کے جواب میں علامہ الرافع الرفاعی نے کہا کہ امریکی بھی بہ خوبی جانتے ہیں کہ نوری المالکی ایران کے "ٹاؤٹ" ہیں۔ ان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اگر عراق میں واقعی ایک خودمختار حکومت ہوتی تو مالکی یہاں کی شورش کے بارے میں ایران سے ہر گز مشورہ نہ کرتا۔

داعش کے زیر کنٹرول موصل شہر کی تازہ صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موصل میں عوامی انقلاب کی تحریک رونما ہوئی ہے۔ مقامی قبائل اور انقلابیوں پر دہشت گردی کا الزام قطعی بے بنیاد ہے البتہ سرکاری فوج اور سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں ہوئی ہیں۔

عراقی عالم دین بے داعش کی سرگرمیوں کی تردید کی اور کہا کہ جب مظلوم عوام اپنے مطالبات کے لیے بندوق اٹھاتے ہیں تو انہیں "داعش"، دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دے کر کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عوام کا القاعدہ، داعش یا کسی بھی انتہا پسند گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔