.

غرب اردن:فلسطینیوں کی پکڑ دھکڑ جاری ،مزید 40 گرفتار

گذشتہ جمعرات کو لاپتا ہونے والے تین یہودی لڑکوں کی تلاش میں بڑا کریک ڈاؤن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسراَئیلی فوج نے گذشتہ ہفتے لاپتا ہونے والے تین یہودی لڑکوں کی تلاش میں غرب اردن میں فلسطینیوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور منگل کو مزید چالیس فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

اسرائیلی فوج کا خیال ہے کہ ان تینوں لڑکوں کو اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے کارکنان نے یرغمال بنا رکھا ہے۔اسرائیلی فوج نے ان کی بازیابی کے لیے گذشتہ جمعرات سے مغربی کنارے کے شہروں اور دیہات میں کریک ڈاؤن کررہی ہے اور اس کے دوران اب تک دو سو سے زیادہ فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

گذشتہ قریباً ایک عشرے کے بعد مغربی کنارے میں حماس کے خلاف یہ سب سے بڑا کریک ڈاؤن ہے۔اسرائیلی فوج نے نئی گرفتاریاں شمالی شہر نابلس سے کی ہیں لیکن اس نے جنوبی شہر الخلیل پر زیادہ توجہ مرکوز کررکھی ہے۔فلسطینی صدرمحمود عباس کی جماعت فتح سے تعلق رکھنے والے کارکنان کو بھی صہیونی لڑکوں کو یرغمال بنانے کے شُبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے منگل کی صبح غزہ کی پٹی میں ہتھیار بنانے کی چار مبینہ جگہوں اور اسلحہ خانوں کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔صہیونی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس علاقے سے جنوبی اسرائیل کی جانب ایک راکٹ فائر کیا گیا تھا۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے فلسطینی اتھارٹی اور حماس کو گذشتہ جمعرات کی شب ان تینوں لڑکوں کے لاپتا ہونے کا ذمے دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں ایک ''دہشت گرد گروہ'' نے اغوا کر لیا ہے لیکن فلسطینیون نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے اپنے مکمل کنٹرول والے علاقے ہی میں کہیں لاپتا ہوگئے تھے۔