.

نوری المالکی کا سعودی عرب پر باغیوں کی پشتی بانی کا الزام

ریاض کو دہشت گرد گروپوں کے خطرناک جرائم کا ذمے دار ٹھہرایا جانا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شیعہ وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت ملک کے شمال میں شورش بپا کرنے والے مزاحمت کاروں کی پیش قدمی کو روکنے میں تو ناکام رہی ہے لیکن اس نے اب سعودی عرب پر اسلامی جنگجوؤں اور قبائلی فورسز کی پشتی بانی کا الزام عاید کر دیا ہے۔

نوری المالکی کے دفتر کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان میں سعودی عرب پر سیدھے سبھاؤ دہشت گردی کی طرف داری کا الزام عاید کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ''ہم اس موقف کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔یہ گروپ مالی اور اخلاقی امداد کی شکل میں جو کچھ وصول پا رہے ہیں،ہم سعودی عرب کو اس کا ذمے دار گردانتے ہیں''۔

اس بیان میں دو قدم اور آگے جا کر یہ کہا گیا ہے کہ ''سعودی حکومت کو ان دہشت گرد گروپوں کے خطرناک جرائم کا ذمے دار ٹھہرایا جانا چاہیے''۔عراقی وزیراعظم کے اس سخت بیان سے ایک روز قبل سعودی عرب نے عراق میں وزیراعظم نوری المالکی کی فرقہ وارانہ اور دوسروں کو دیوار سے لگانے کی پالیسیوں کی مذمت کی تھی اور وہاں قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے پر زور دیا تھی۔

سعودی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ ''اگر عراق میں گذشتہ برسوں کے دوران فرقہ وارانہ اور دیوار سے لگانے کی پالیسیوں کو اختیار نہ کیا جاتا تو حال ہی میں رونما ہونے والے واقعات پیش نہ آتے۔ان پالیسیوں نے عراق کی سلامتی ،استحکام اور خود مختاری کو خطرات سے دوچار کردیا ہے''۔

سعودی حکومت نے عراق کے داخلی امور میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو مسترد کردیا ہے اور اس کی خود مختاری ،اتحاد اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضرورت پر زوردیا ہے۔اس کے علاوہ اس نے عراق میں جلد سے جلد قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملک میں سکیورٹی اور استحکام کو بحال کیا جاسکے۔

اس نے پڑوسی ملک میں مذہبی اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی پر مبنی پالیسیوں سے بھی گریز کا مشورہ دیا ہے۔عراقی وزیراعظم نے اس مشورے پر تو کوئی کان نہیں دھرے البتہ انھوں نے سعودی عرب پر اسلامی جنگجوؤں کی حمایت کا الزام عاید کردیا ہے لیکن انھوں نے ایران کی عراق میں مداخلت کے حوالے سے کچھ نہیں کہا ہے۔

عراق کے ایک سینیر عہدے دار نے ہفتے کے روز گارجین کو بتایا تھا کہ ایران نے ملک کے شمال میں برسرپیکار انتہا پسند جہادیوں کے خلاف لڑائی کے لیے قریباً دو ہزار فوجی بھیجے ہیں۔اس عہدے دار کے بہ قول ایران کی باسیج ملیشیا کے پندرہ سو اہل کار گذشتہ جمعہ کی رات سرحد عبور کر کے وسطی صوبے دیالا کے قصبے خانقین میں پہنچے تھے۔پانچ سو اور اہلکار صوبے واسط کے علاقے بدرا جاسن میں داخل ہوئے تھے۔

ایران کے پاسداران انقلاب کی ایلیٹ القدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی بھی مبینہ طور پر بغداد پہنچے تھے اور انھوں نے عراقی دارالحکومت کی دفاعی تیاریوں کا جائزہ لیا تھا۔ایرانی صدر حسن روحانی نے ہفتے کے روز القاعدہ سے متاثر گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کے مقابلے میں عراق کی مدد کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے عراق میں داعش اور مقامی جنگجوؤں کو شکست دینے کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون کا بھی اعلان کیا تھا۔

لیکن امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے اس پیش کش کو ٹھکرا دیا تھا اور کہا تھا کہ روایتی دشمن ملک کے ساتھ کوئی رابط یا مشاورت نہیں کی جائے گی۔پینٹاگان کے ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی نے سوموار کو ایک بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی قسم کی فوجی سرگرمی کے حوالے سے رابطہ کاری کا نہ تو کوئی منصوبہ ہے اور نہ ایسا کوئی ارادہ ہے۔عراق میں فوجی سرگرمی سے متعلق ایران سے کوئی مشاورت نہیں کی جائے گی۔

قبل ازیں امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے یاہو نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ عراق میں جاری بحران کے حوالے سے تعاون کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''میں ایسے کسی امکان کو مسترد نہیں کررہا ہوں ،جو تعمیری ہے''۔