.

شمالی عراق کے 3 شہروں پر جنگجووں کا قبضہ

خویریز لڑائی میں داعش کے ہاتھوں 20 شہری قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں مسلح جنگجوٶں نے بغداد اور کرکوک کے گرد و نواح میں واقع تین دیہات پر بدھ کے روز قبضہ کر لیا۔ مقامی عہدیدار کے مطابق عراقی قصبات پر کنڑول کے لئے ہونے والی جھڑپوں میں 20 مقامی شہری ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

بغداد حکومت کے کنڑول سے باہر جانے والے دیہات شمالی بغداد سے 175 کلومیڑ دور طوزخرماتو اور کرکوک سے 85 کلومیڑ دور امرلی کے علاقے کے درمیان واقع ہیں۔

طوزخرماتو کے قائمقام نگران شلال عبدول نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ دیہات پر قبضے کی لڑائی میں دو لاکھ خاندان قصبے کے مرکز اور امرلی کی سمت ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے جہاں سیکیورٹی فورسز موجود تھیں۔ علاقے کے باسیوں کی اکثریت عرب اور ترکمان شیعہ مسلکی افراد پر مشتمل ہے۔

اس سے قبل نوری المالکی کی فوج نے بغداد سے 60 کلومیٹر دور دیالی گورنری کے شہر بعقوبہ کے بعض علاقے جنگجوٶں سے واپس لے لئے ہیں۔ ان علاقوں کو جنگجوٶں سے واگذار کرنے کے لئے قبائلی سرداروں، داعش کے درمیان شدید لڑائی ہوئی، نیز کرد البشمرکہ اور علاقے سے تعلق رکھنے والے مسلح جنگجوٶں کے درمیان بھی شدید لڑائی ہوئی جس کے بعد نوری المالکی کی فوج نے بغداد کے گرد حفاظتی حصار قائم کر لیا۔

شمالی عراق کے اہم مقام موصل کے مغرب میں واقع تلعفر میں بھی اپوزیشن کے مسلح افراد، داعش کے جنگجوٶں اور نوری المالکی فوج کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

ادھر تلعفر کے علاقے میں بھی سرکاری فوج اور داعش کے جنگجوٶں کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ جھڑپیں القلعہ اور البساتین کے علاقوں میں ہوئیں جبکہ ان جھڑپوں میں دسیوں شہریوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، اس کے علاوہ بڑی تعداد میں عام لوگ موصل اور دوسرے محفوظ دیہات کی طرف ہجرت پر مجبور ہیں۔