.

شاہ عبداللہ کی مصر آمد، عبدالفتاح السیسی سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز جمعہ کو مصر کے تاریخی دورے پر قاہرہ پہنچے ہیں۔ سابق صدر حسنی مبارک کی عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے رخصتی کے بعد ان کا یہ پہلا دورہ ہے اور اس کا مقصد نئے منتخب صدر عبدالفتاح السیسی کو سعودی عرب کی حمایت کا یقین دلانا ہے۔

مصری صدر السیسی اور دوسرے حکام نے قاہرہ کے ہوائی اڈے پر آمد پر شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کا استقبال کیا۔ وہ مراکش سے مصر پہنچے ہیں۔ بعد میں دونوں رہ نماؤں نے مصر اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

دو ہفتے قبل عبدالفتاح السیسی کے بطور مصری صدر حلف کے بعد شاہ عبداللہ پہلی غیر ملکی شخصیت ہیں کہ جو مصر کا دورہ کر رہی ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق سعودی وزیر خارجہ، وزیر مالیات، سیکیورٹی حکام اور محکمہ سراغرسانی کے سابق سربراہ شہزادہ بندر بن سلطان بھی سعودی فرمانروا کے ہمراہ سعودی عرب آئے ہیں۔

واضح رہے کہ مسلح افواج کے سابق سربراہ عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں گذشتہ سال جولائی میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے سعودی عرب اور دوسری خلیجی ریاستوں نے مصر کو اربوں ڈالرز کی مالی امداد دی ہے۔

شاہ عبداللہ نے اسی ماہ کے آغاز میں عبدالفتاح السیسی کی بطور صدر کامیابی کے سرکاری اعلان کے بعد انھیں سب سے پہلے مبارک باد کا پیغام بھِیجا تھا اور مصر کو معاشی مشکلات پر قابو پانے میں مدد دینے کے لیے ڈونرز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

انھوں نے اپنے پیغام میں مصریوں پر زور دیا تھا کہ وہ عرب بہاریہ کی ''خوف ناک افراتفری'' سے لاتعلقی کا اظہار کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آج پہلے سے کہیں زیادہ مصر کی ضرورت ہے۔

شاہ عبداللہ پہلے غیرملکی رہ نما تھے جن کا صدر السیسی نے اپنی پہلی تقریر میں نام لے کر تذکرہ کیا تھا اور امدادی کانفرنس منظم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔اب شاہ عبداللہ پہلے غیرملکی رہ نما ہیں جو صدر السیسی کے اقتدار سنبھالنے کے قریباً دو ہفتے کے بعد مصر کا دورہ کررہے ہیں۔

یادرہے کہ عبدالفتاح السیسی سابق صدر حسنی مبارک کے دور حکومت میں سعودی دارالحکومت الریاض میں دفاعی اتاشی تعینات رہے تھے۔پھر وہ ترقی کرتے ہوئے مبارک دور میں ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ بنا دیے گئے تھے اور ڈاکٹر محمد مرسی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض سینیر جرنیلوں کو سبکدوش کرکے انھیں آرمی چیف بنا دیا تھا لیکن انھوں نے ملک کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر کوعوامی مظاہروں کے بعد برطرف کردیا تھا۔اب ڈاکٹر مرسی اور ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنان اور مرکزی قائدین پابند سلاسل ہیں۔