.

اردن اور لبنان "داعش" جنگجوؤں کا اگلا ہدف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں عسکری کارروائیوں سے شہرت پانے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] ان دنوں عالمی میڈیا کا اہم ترین موضوع ہے۔

اس کی بنیادی وجہ تنظیم کا تیزی سے پھیلتا نیٹ ورک اور اس کی عسکری سرگرمیاں ہیں۔ گو کہ ابھی تک تنظیم کا اصل میدان جنگ عراق اور شام ہیں لیکن انٹرنیٹ پر تیزی سے مقبول ہونے والی ایک تازہ ویڈیو پوسٹ میں موجود پانچ جنگجوؤں نے لبنان اور اردن کو اپنی جنگی کارروائیوں کا اگلا ہدف قرار دیا ہے۔

ویڈیو فوٹیج میں پانچ بندوق بردار اسلامی شدت پسندوں کو ایک ویران مقام پر بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ ان کے درمیان القاعدہ کا سیاہ پرچم لہرا رہا ہے۔ ویڈیو میں موجود دو جہادیوں کا تعلق آسٹریلیا اور برطانیہ سے بتایا گیا ہے۔ یہ جنگجو شام میں"جہاد" پر زور دے رہے ہیں۔

ایک جنگجو انگریزی میں گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے کہ "ہم دولت اسلامیہ عراق وشام" سے وابستہ ہیں۔ ہمارا مقصد اسلامی شریعت کا نفاذ ہے۔ ہم سرحدوں کو نہیں مانتے۔ گفتگو کرنے والے جنگجو کا نام "ابو مثنی الیمنی" بتایا گیا جس کے پاس برطانیہ کی دوہری شہریت بھی ہے۔

مُبینہ داعشی جنگجو کا مزید کہنا ہے کہ "ہم نے شام کے محاذ جنگ میں حصہ لیا۔ چند ایام میں ہم عراق روانہ ہو جائیں گے۔ عراق میں لڑائی کے بعد مشکلات کے باوجود ہمارا اگلا ہدف اردن اور لبنان ہو گا"۔ ویڈیو فوٹیج میں دیگر جنگجوؤں کا تعارف کراتے ہوئے ان کے نام ابو البراء الہندی، ابو دجانہ الہندی، ابو یحییٰ الشامی اور ابو نور العراقی بتائے گئے ہیں۔ یحییٰ الشامی کے پاس برطانیہ اور ابو نور العراقی کے پاس آسٹریلیا کی دوہری شہریت ہے۔