.

داعش کا عراق کی دو سرحدی گذرگاہوں پر کنٹرول

عراقی فوج نے اردن اور شام کے ساتھ واقع بارڈر کراسنگز پر قبضے کی تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں نے عراق کی شام اور اردن کے ساتھ واقع دوسرحدی گذرگاہوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق عراقی فوج نے اتوار کو ان دونوں بارڈر کراسنگز پر داعش کے قبضے کی تصدیق کردی ہے۔ان میں طربیل بارڈر کراسنگ شام اور الولید اردن کے ساتھ واقع ہے۔قبل ازیں عراقی وزیرداخلہ نے داعش کے ان دونوں اہم سرحدی گذرگاہوں پر قبضے کی تردید کی تھی۔

داعش اور مسلح قبائلیوں نے ہفتے کے روز مغربی صوبہ الانبار کے دو شہروں راوا اور عینا پر قبضہ کر لیا تھا۔راوا کے مئیر حسین علی العجیل نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ جنگجوؤں کے شہر پر قبضے کے بعد عراقی فوج اور پولیس وہاں سے چلی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جنگجوؤں نے شہر میں بعض سرکاری دفاتر کو نذرآتش کردیا ہے۔

داعش نے مقامی مسلح قبائل اور دوسرے گروپوں کی مدد سے 10 جون کو عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے بعد سے انھوں نے پورے صوبہ نینویٰ اور تین اورشمالی صوبوں کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

عراقی فوج کے مقابلے میں ان اسلامی جنگجوؤں ،ان کے حامی سنی مزاحمت کاروں اور مسلح قبائلیوں کی ان فتوحات پر پورے خطے میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔مقامی لوگوں اور میڈیا کے نمائندوں کی اطلاعات کے مطابق موصل اور دوسرے شمالی شہروں پر داعش کے حملے کے وقت عراقی فوجیوں نے بالکل بھی مزاحمت نہیں کی تھی اور وہ ان شہروں کا دفاع کرنے کے بجائے اپنی وردیاں ،گاڑیاں ،اسلحہ اور چوکیاں چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔

اب عراقی فوج کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ داعش اور دوسرے جنگجو گروپوں کے آناً فاناً حملے اور ان کی تیز رفتار کامیابیوں کے مقابلے میں بعد وہ کچھ سنبھل گئی ہے لیکن اس کے باوجود داعش اور اس کے اتحادیوں کی پیش قدمی جاری ہے اور ہر نئے دن کے ساتھ مزید علاقے ان کے زیر نگیں آرہے ہیں اور وہ وہاں سے عراقی فورسز کو مار بھگا رہے ہیں۔

درایں اثناء امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے عراقی لیڈروں پر زوردیا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ تحفظات سے بالا تر ہوکر سوچیں۔انھوں نے مصر کے اچانک دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا عراق میں جاری بحران کا ذمے دار نہیں ہے۔