.

موصل آزاد کرانے کے مشن پر مامورعراقی جنرل فرار

جنرل محمد القریشی نے کرد علاقے میں پناہ لے لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی گورنری نینوی کے ایک سیکیورٹی ذریعے نے بتایا ہے کہ سرکاری فوج کے ساتھ کئی دنوں کی لڑائی کے بعد جنگجووں نے موصل کے شمالی مغربی شہر تلعفر کے گرد و نواح کںڑول سنبھال لیا ہے۔

ادھر ذرائع نے تصدیق کی ہے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے سرکاری فوج کے جنرل محمد القریشی المعروف ابو الولید کو موصل شہر کو جنگجووں سے واگذار کرانے کی ذمہ داری سوپنی تھی وہ جنگجووں کی پیش قدمی سے گھبرا کر خود میدان جنگ چھوڑ کر کرد علاقے میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ذرائع نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ جنرل ابو ولید کسی معرکے میں مارے جا چکے ہیں یا انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مسلح جنگجووں نے جیسے ہی تلعفر شہر کا کنڑول حاصل کیا، اسی لمحے شہر کے فوجی کمانڈر محفوظ پناہ کے لئے کرد علاقے میں منتقل ہو گئے۔

یاد رہے کہ عراقی فوج کی بھاری نفری کو جنرل محمد القریشی کی سربراہی میں موصل بھیجا گیا تاکہ وہ اسے جنگجووں سے چھڑا سکیں۔ یہ ذمہ داری جنرل ابو ولید کو خود عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے سونپی تھی۔