.

"شامی باغی نو عمر بچوں کو جنگ میں جھونک رہے ہیں"

ہیومن رائٹس واچ کا باغیوں کے غیر ملکی حامیوں کو انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے شام میں سرگرم باغی گروپوں سے کہا ہے کہ وہ نو عمر لڑکوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کا کام روک دیں۔ تنظیم نے ان گروپوں کے غیر ملکی حامیوں کو خبردار کیا ہے کہ ایسا کرنے پر جنگی جرائم کے الزام میں ان کا مواخذہ کیا جا سکتا ہے۔

انسانی حقوق تنظیم نے الزام لگایا کہ شامی باغیوں نے بشار الاسد کے خلاف جنگ میں پندرہ سال عمر کے بچوں کو جھونک رکھا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق: "کچھ باغی گروپ لڑکوں کو تعلیم دلانے کا جھانسہ دے کر اپنے لئے لڑائی پر آمادہ کر رہے ہیں۔"

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شام میں موجود اسلام پسند مسلح گروپ، جن میں داعش جیسا طاقتور گروپ بھی شامل ہے، نے بچوں کو مفت تعلیم دینے کی مہم چلا کر بھرتی کیا ہے اور اب ان کو ہتھیار چلانے کی تربیت دینے کے بعد خودکش حملوں جیسے خطرناک مہمات پر روانہ کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپ کی یہ رپورٹ ان 25 بچوں کے تجربات پر مشتمل ہے جو کہ داعش، جیش الحر، اسلامک فرنٹ اور النصرہ فرنٹ کے ساتھ ساتھ کردش فوج میں بھی شامل تھے۔

ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے انٹرویو کئے جانے والے لڑکوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے جنگ میں حصہ لیا، بطور نشانہ باز کام کیا، چیک پوائنٹس پر گارڈ ڈیوٹی دی، خفیہ طور پر دشمن کی نگرانی کی، زخمیوں کا دھیان رکھا اور فرنٹ لائن پر اسلحہ اور دیگر سامان پہنچایا۔

بعض لڑکوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے دوستوں اور خاندان کی راہ پر چلنے کے لئے اس راستے کو چنا جبکہ دوسروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے مارچ 2011 میں سیاسی تبدیلی کے لئے پر امن مظاہروں میں شرکت کے بعد اپنا نام ان گروپوں میں لکھوایا تھا۔

ہیومن رائٹس گروپ کی پریانکا موٹاپارتھی نے بتایا ہے کہ شامی مسلح گروپوں کو بے چارے بچوں کا شکار نہیں کرنا چاہئیے ہے۔ ان بچوں نے اپنے گھر والوں کو قتل ہوتے دیکھا ہے، ان کے سکولوں اور گھروں پر بمباری ہوئی ہے۔

شامی بحران میں لڑنے والے بچوں کی تعداد تو کسی کو معلوم نہیں ہے مگر تشدد کے واقعات کا ریکارڈ رکھنے والے ایک ادارے کے مطابق 2011 ستمبر سے اب تک شامی بحران میں 194 مسلح بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ بشار الاسد کے خلاف بغاوت کی حمایت کرنے والے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بچوں کو بھرتی کرنے کے اقدامات کو ختم کریں۔ ہیومن رائٹس کی عہدیدار کا کہنا ہے کہ، "بچوں کو جنگ میں لڑنے کے لئے پیسے فراہم کرنے والے کسی بھی شخص کو جنگی جرائم میں شریک قرار دیا جاسکتا ہے۔"

بچوں میں سے کئی کا کہنا ہے کہ وہ اسد کے فوجیوں کی بدسلوکی کا نشانہ بننے کے بعد حزب اختلاف کا حصہ بنے ہیں۔ انٹرویو میں شامل تمام بچے لڑکے ہی تھے مگر کردش ڈیموکریٹک یونین پارٹی نے چیک پوائنٹس پر ڈیوٹی دینے کے لئے لڑکیوں کو بھی بھرتی کیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے بتایا ہے کہ انہوں نے سیکیورٹی اور سفری مجبوریوں کی وجہ سے حکومتی ملیشیا کی تفتیش نہیں کی ہے۔