.

مالکی، شامی فضائیہ کی جنگجووں پر بمباری، دسیوں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نوری المالکی کو جوابدہ عراقی فضائیہ نے عراق میں قبائلی جنگجووں کے زیر نگیں مخلتف علاقوں پر بدھ کے روز شدید بمباری کی۔ اس کارروائی میں انہیں شامی فضائیہ کی مدد حاصل تھی جس نے عراق اور شام کے سرحدی علاقے القائم اور الرطبہ پر بم برسائے جس سے دسیوں افراد ہلاک ہوئے۔

نوری المالکی کی فوج نے خونریز جھڑپوں کے بعد دولت اسلامی عراق و شام 'داعش' کے مسلح جنگجووں کی عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں میں پیش قدمی روک دی۔

شمالی عراق میں نوری المالکی نے بیجی شہر میں واقع تیل صاف کرنے والی ملک کی سب سے بڑی ریفائنری پر داعش کے مسلح جنگجووں کے حملے پسپا کر دیئے ہیں۔ میڈیکل ذرائع کے مطابق جنگجووں کے زیر نگین عراقی شہروں اور دیہات پر عراقی فضائیہ کے حملوں میں کم سے کم چالیس افراد کے مارے جا چکے ہیں۔

ادھر شامی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے مغربی عراق کے سرحدی شہر الرطبہ پر دو میزائل داغے جس میں ایک پٹرول پمپ پر گرا جس کے نتیجے میں چالیس افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔

درایں اثنا انقلابیوں نے عراقی فوج کا ایک ہیلِ کاپٹر مار گرانے کا دعوی کیا ہے۔ نیز انہوں نے عراقی فوج کے ہمراہ لڑائی میں شریک 35 ایرانیوں کو بھی گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ اس سے پہلے ایران اور اس کی سرکردہ قیادت بشمول صدر حسن روحانی واشگاف اعلان کر چکے ہیں کہ ان کی فوج عراق میں شیعہ مزارات کے تحفظ کی خاطر عراق کے اندر کسی براہ راست کارروائی کے لئے تیار ہے۔