.

"63 فلسطینی قیدیوں نے احتجاجی بھوک ہڑتال معطل کر دی"

بھوک ہڑتال معطلی کا فیصلہ رمضان المبارک کیوجہ سے کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اسیران کے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ 63 قیدیوں نے رمضان المبارک کی آمد اور جیل حکام کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے بعد اپریل سے جاری اپنی بھوک ہڑتال معطل کر دی ہے۔

ابو ثنینہ ایڈووکیٹ کے مطابق بھوک ہڑتال معطل کرنے والے قیدیوں کے جیل حکام سے معاہدے کی تفصیلات آج کسی وقت جاری کی جائیں گی۔

بھوک ہڑتال کرنے والے اسیران کی بڑی تعداد انتظامی نظر بندی کے تحت قید و بند کی صعبوتیں برداشت کر رہی ہے۔ انہیں بغیر کسی مقدمے یا ایف آئی آر کے غیر معینہ مدت کے لئے نظر بند رکھا جا رہا ہے، جس میں ہر چھ ماہ بعد اتنی ہی مدت کے لئے توسیع دے دی جاتی ہے۔ یہ طریقہ کار فلسطین میں 1920 سے 1948 رائج برطانوی انتداب کے دور سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انتظامی نظر بندیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر فلسطینی اسیران نے بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ اسرائیلی جیل سروس کے ترجمان سیوان وزمین نے اس ماہ کے اوائل میں اعتراف کیا تھا کہ یہ ہڑتال سب سے زیادہ مدت تک جاری رہی۔

اس وقت اسرائیلی جیلوں میں تقریبا 5000 فلسطینی قید ہیں جن میں 200 انتظامی نظر بندی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی انجمنوں نے اس حراستی عمل کی مذمت کی ہے جبکہ فلسطینی اتھارٹی نے بین الاقوامی برادری پر دبائو ڈالا ہے تاکہ وہ اسرائیل کو یہ اقدام ختم کرنے پر مجبور کریں۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون نے بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اسیران کی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو انہیں رہا کرے یا ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرے۔

اسرائیلی حکومت مستقبل میں بھوک ہڑتال کو روکنے کے لئے ایک ایسا قانون منظور کروانے کی کوشش کر رہی ہے جس کے تحت حکام، قیدیوں کو زبردستی کھانا کھلا سکیں گے۔

اس مجوزہ قانون کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے۔ یہ بل پیر کے روز بحث کے لئے اسرائیلی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔