.

بشارالاسد نے کبھی مستعفی ہونے کا نہیں سوچا: الابراہیمی

باربار کی کوشش کے باوجود شامی رجیم نے فاروق الشرع سے ملنے نہیں دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے سابق مشترکہ ایلچی الاخضرالابراہیمی نے کہا ہے کہ ''صدر بشارالاسد نے کبھی مستعفی ہونے یا بیرون ملک مقیم حزب اختلاف کو رعایتیں دینے کے بارے میں نہیں سوچا ہے''۔

انھوں نے یہ بات لندن سے شائع ہونے والے عربی روزنامے الحیات کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ان کا یہ انٹرویو بدھ کو شائع ہوا ہے۔انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے ایک مرتبہ بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کے لیے بات کی تو ان کا جواب یہ تھا:''کوئی بھی مجھے دوبارہ منتخب ہونے کے حق سے محروم نہیں کر سکتا ہے''۔

الاخضرالابراہیمی نے بتایا کہ ''انھوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ شام کے نائب صدر فاروق الشرع سے ملاقات کی کوشش کی تھی لیکن شامی رجیم نے انھیں ان سے ملنے نہیں دیا تھا''۔

انھوں نے اس امکان کو بھی رد نہیں کیا ہے کہ ترک حکومت کی جانب سے فاروق الشرع کے حق میں بیانات کی وجہ سے شامی رجیم کا ان پر اعتماد نہیں رہا تھا۔ترک حکومت کا کہنا تھا کہ شامی نائب صدر ،بشارالاسد کا بہتر متبادل ہوسکتے ہیں۔

فاروق الشرع سنی العقیدہ ہیں اور وہ شام کے مشرقی شہر درعا سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ شامی بحران کے حوالے سے صدر بشارالاسد سے مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں اور مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرنے کے مخالف رہے ہیں۔

انھوں نے دسمبر 2012ء میں لبنانی روزنامے الاخبار کے ساتھ ایک انٹرویو میں بشارالاسد کی جانب سے حکومت کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک کو کچلنے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کی مخالفت کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ صدر بحران کے ایسے فوجی حل کے لیے اپنی خواہش کو چھپاتے نہیں ہیں جو ان کے لیے ایک فیصلہ کن فتح دلا دے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''کسی بھی بغاوت کو عسکری میدان جنگ میں فرو نہیں کیا جاسکتا ہے۔بالکل اسی طرح سکیورٹی فورسز اور فوج کے یونٹوں کی کارروائیوں سے لڑائی کا خاتمہ نہیں ہوگا''۔

ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو نے 2012ء میں ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ ''فاروق الشرع دلیل اور ضمیر کے آدمی ہیں اور انھوں نے شام میں قتل عام میں بھی حصہ نہیں لیا ہے۔شامی نظام کو ان سے بہتر کوئی اور شخص نہیں جانتا ہے''۔

الاخضرالابراہیمی نے الحیات کے ساتھ انٹرویو میں یہ بھی بتایا ہے کہ '' روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے ایک مرتبہ ان پر واضح کردیا تھا کہ روس کا شامی صدر بشارالاسد پر کوئی زیادہ اثرورسوخ نہیں ہے بلکہ روس کا تو ان پر امریکا کے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر اثر ورسوخ سے بھی کم اثر ہے''۔

واضح رہے کہ الاخضرالابراہیمی 31 مئی کو عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مشترکہ ایلچی کی حیثیت سے اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہو گئے تھے۔انھیں دو سال قبل اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی جگہ شام کے لیے خصوصی عالمی ایلچی مقرر کیا گیا تھا۔وہ اپنی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں شام میں جاری بحران کے حل کے لیے اسد حکومت اور حزب اختلاف کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب رہے تھے۔یہ اور بات ہے کہ فریقین کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کے دو ادوار ہونے کے باوجود تنازعے کے حل کے لیے کوئی سجھوتا طے نہیں پا سکا تھا۔

البتہ جنیوا میں فروری میں شامی حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان منعقدہ مذاکرات کے آخری دور میں انھیں واحد کامیابی یہ ملی تھی کہ فریقین نے وسطی شہر حمص میں ایک ہفتے کے لیے جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا اور اس دوران وہاں پھنسے ہوئے ہزاروں شہریوں کو دوسرے علاقوں میں منتقل کردیا گیا تھا۔

الجزائر سے تعلق رکھنے والے بزرگ سفارت کار کو ایک طرف تو شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے منفی رویے سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا اور دوسری جانب وہ ماضی میں وہ عرب لیگ کی جانب سے شامی حزب اختلاف کی حمایت اور اس کو نشست دینے سے دلبرداشتہ ہوئے تھے۔عرب لیگ کے اس اقدام سے ان کی شامی بحران کے حل کے لیے امن کوششوں کو دھچکا لگا تھا اور ان کی غیر جانبدارانہ حیثیت متاثر ہوئی تھی۔

شامی بحران کے حوالے سے ان کا موقف رہا ہے کہ اس کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔انھوں نے گذشتہ سال ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ شامیوں کے درمیان بہت سے پیچیدہ مسائل پیدا ہوچکے ہیں اور انھیں ایک دوسرے سے تنازعے کے حل کے لیے بات چیت کرنی چاہیے۔وہ ماضی میں متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ شام میں جاری بحران کا اب بھی سیاسی حل ممکن ہے۔البتہ یہ وقت کے ساتھ بہت پیچیدہ ہوگیا ہے۔