.

شامی لڑاکا طیاروں کی عراقی جنگجووں کے ٹھکانوں پر بمباری

نوری المالکی کی جانب سے القائم پر شامی بمباری کا 'خیر مقدم'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے تصدیق کی ہے کہ شام کے لڑاکا طیاروں نے ملک کے مغرب حصے میں شام-عراق سرحد پر مسلح جنگجووں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

معاصر عزیز 'بی سی سی' نے نوری المالکی کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا عراقی وزیر اعظم نے داعش سمیت دوسرے جنگجووں کے ٹھکانوں کو شامی جنگی جہازوں کی جانب سے نشانہ بنانے کا "خیر مقدم" کیا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ منگل کے روز ہونے والے ان حملوں کا بغداد نے مطالبہ نہیں کیا تھا۔

یہ بمباری اس وقت کی گئی جب مسلح جنگجووں نے دہشت گرد تنظیم 'داعش' کی قیادت میں عراق۔شام سرحدی شہر القائم کا کنڑول حاصل کر لیا تھا۔ یہ سرحدی شہر انتہائی تزوایراتی اہمیت کا حامل بتایا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے ہی عراقی جنگجو شام میں جا کر اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔