.

کرکوک میں خود مختار حکمرانی برقرار رہے گی: بارزانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے خودمختار شمالی علاقے کردستان کے صدر مسعود بارزانی نے کہا ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال خود مختار شہر کرکوک میں حکومتِ خود اختیاری جاری رہے گی اور کرد جنگجو اس شہر کے علاوہ اپنے زیرنگیں دوسرے قصبوں کا بھی دفاع جاری رکھیں گے۔

وہ جمعہ کو کردستان کے دارالحکومت اربیل میں برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''اب اس ایشو کو حل کر لیا گیا ہے۔ہم نے دس سال تک انتظار کیا ہے کہ وفاقی حکومت متنازعہ علاقوں سے متعلق مسائل کو حل کردے گی''۔

وہ عراق کے دستور کی ایک دفعہ کا حوالہ دے رہے تھے جس میں کرد اکثریتی شہر کرکوک کی کرد علاقے میں شمولیت کی تصریح کی گئی تھی لیکن بغداد حکومت کے اعتراضات کی وجہ سے ماضی میں تیل کی دولت سے مالا مال یہ شہر کردستان کا حصہ نہیں بن سکا تھا۔

مسعود بارزانی نے کہا کہ ''پہلے تو اس علاقے میں عراقی فورسز موجود تھیں اور پھر سکیورٹی کا خلا پیدا ہوگیا اور کرد پیش مرگا فورسز نے اس خلا کو پورا کردیا ہے''۔وہ عراق کے شمالی شہروں میں القاعدہ سے متاثر جہادی تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش ) کی عراقی فوج کے مقابلے میں حالیہ کامیابیوں کا حوالہ دے رہے تھے۔کرکوک سے عراقی فورسز کے انخلاء کے بعد کرد فورسز نے کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

کردوں سے مذاکرات کی بحالی؟

کردوں ہی کے حوالے سے ایک اور خبر یہ ہے کہ ترک حکومت نے کرد جنگجوؤں کے ساتھ تعطل کا شکار امن مذاکرات کی بحالی کے لیے پارلیمان میں اصلاحات کا بل پیش کردیا ہے۔

وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی جماعت عدل اور ترقی پارٹی (آق) کے اس اقدام کو اگست میں ہونے والے صدارتی انخابات میں کردوں کے ووٹ حاصل کرنے کی ایک کوشش قراردیا گیا ہے۔ان انتخابات میں رجب طیب ایردوآن ہی حکمراں جماعت کے متوقع صدارتی امیدوار ہوں گے۔

ترکی کے پارلیمانی ذرائع کے مطابق چھے دفعات پر مشتمل اصلاحات کے اس پیکج سے کرد باغیوں کے ساتھ امن عمل کو قانونی تحفظ حاصل ہوجائے گا اور کرد باغیوں کے ساتھ مذاکرات میں شریک بنیادی کرداروں سیاست دانوں ،سرکاری افسروں اور خفیہ ایجنسی کو قانونی استثنیٰ مل جائے گا۔

اس پیکج کا عنوان :''دہشت گردی کے خاتمے اور سماجی یک جہتی کے استحکام کا بل'' ہے۔اس کا ایک مقصد کردوں کی کالعدم جماعت کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کے ہتھیار ڈالنے اور ترکی لوٹ آنے والے جنگجوؤں کی بحالی کے لیے اقدامات کرنا ہے۔ نیز اس کے تحت حکومت کو اندرون اور بیرون ملک ''کرد سوال'' پر مذاکرات کے لیے افراد اور اداروں کو مقرر کرنے کا اختیار مل جائے گا۔

یادرہے کہ وزیراعظم ایردوآن کی حکومت نے پی کے کے کے جیل میں قید رہ نما عبداللہ اوجلان کے ساتھ 2012ء میں خفیہ مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ان کے نتیجے میں کردباغیوں نے مارچ 2013ء میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور ترکی کی فورسز نے بھی ان کے ٹھکانوں پر حملے روک دیے تھے لیکن گذشتہ سال ستمبر سے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور کردوں نے حکومت پر موعودہ اصلاحات پر عمل درآمد نہ کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

مجوزہ بل ایسے وقت میں پارلیمان میں پیش کیا گیا ہے جب آق یکم جولائی کو نئے صدارتی امیدوار کی نامزدگی کا اعلان کرنے والی ہے اور توقع ہے کہ وہ رجب طیب ایردوآں ہی کو نامزد کرے گی۔صدارتی انتخاب میں ان کی کامیابی کے لیے کرد اقلیت کی حمایت ضروری ہے۔کرد ترکی کی کل آبادی کا پانچواں حصہ ہیں اور ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں ان کی اکثریت ہے۔