.

ایران کی اسلحے سے بھری پکڑی گئی کشتی پر رپورٹ مکمل

اسرائِیل کے زیر قبضہ آنے کے بعد اقوام متحدہ نے تحقیقات کیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ایک پینل نے اسرائِیل کی طرف سے قبضے میں لی گئی ایرانی اسلحے سے بھری کشتی کے بارے میں اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔ یہ رپورٹ ایرانی جوہری پروگرام پر ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ویانا میں مذاکرات کا دور شروع ہونے سے محض چند دن پہلے سامنے آئی ہے۔

اسرائیل نے مبینہ ایرانی اسلحے سے بھری کشتی کو ماہ مارچ میں بحر احمر میں قبضے میں لیا تھا۔ اسرائیل نےالزام لگایا تھا کہ ایران یہ اسلحہ غزہ میں حماس کے لیے بھجوانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ تاہم اقوام متحدہ کے تحقیاتی پینل نے اس بارے کوئی خیال آرائی نہیں کی ہے۔

اسرائیل کا الزام ہے کہ ایران نے یہ اسلحہ بھر کشتی روانہ کر کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے تحقیقات کرنے والے پینل نے اس بارے میں بھی کچھ نہی کہا کہ سوڈان اسلحے بھجوانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ البتہ مغربی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سوڈان ماضی میں ایرانی اسلحے کے لیے ایک راہداری کی حیثیت رکھتا تھا۔

اقوام متحدہ کے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ '' راکٹ، مارٹرز اور ان سے متعلقہ دیگر ساز و سامان ایران سے سوڈان بھجوایا گیا تھا۔ یو این کے اس پینل نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ ایران کی طرف سے یہ واقعہ بعض دوسرے واقعات کا تسلسل ہے جو اس سے پہلے سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی کو رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔

اس پینل کا یہ بھی کہنا ہے کہ '' ایران کی طرف سے اس اسلحے کے ذریعے اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 1747 کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ کیونکہ ایران پر اس ناطے پہلے سے پابندی عاید ہے۔ تاہم ایران اس کی تردید کرتا ہے۔ البتہ ابھی تک ایران کے اقوام متحدہ میں موجود مشن نے ان تحقیقات کے بارے میں کسی تبصرے یا ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

واضح رہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس قبضے میں لی گئی کشتی میں 40 ایم 302 راکٹ، {جن میں چار مختلف قسم کے راکٹ اور فیوزز بھی شامل تھے}181 کی تعداد میں 120 ایم ایم مارٹر شیل اور سات اعشاریہ باسٹھ بور کا تقریبا چار لاکھ کی تعداد میں اسلحہ موجود تھا۔