.

کیا دارلحکومت کا 'دفاعی حصار' بغداد بچا لے گا؟

جنگجو بغداد کے داخلی دروازے پر دستک دینے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

محض چند ہفتوں کے دوران عراق کی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' کی نہایت تیزی سے جاری ساتھ فتوحات کے بعد عسکریت پسندوں کی نظریں اب بغداد پر مرکوز ہیں۔ داعش نے ملک کے پانچ بڑے شہروں پر قبضہ جما لیا ہے۔ ان اضلاع کا مجموعی رقبہ عراق کا ایک چوتھائی بنتا ہے۔

ان حالات میں یہ سوال سامنے آ رہا ہے کہ کیا وزیر اعظم نوری المالکی بغداد کو اس کے گرد 'دفاعی حصار' قائم کر کے اسے جنگجووں کے ہاتھ لگنگ سے بچا پائیں گے؟

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بغداد کا دفاعی حصار [بغداد بیلٹ] دارالحکومت کے گرد چند شہروں اور قصبات پر مشتمل ہے، جہاں کچھ قبائل بھی آباد ہیں۔ کسی بھی بیرونی بری حملے کو روکنے کے لیے درارالحکومت کے آس پاس سخت ترین حفاظتی انتظامات تو کیے گئے ہیں مگر یہ کتنے قابل اعتبار ہیں۔ اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔

انتظامی طور پر بغداد کے گرد چھ اہم ترین دفاعی "پوائنٹس" ہیں۔ ذیل میں ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔

محمودیہ: یہ علاقہ بغداد کے جنوب میں واقع ہے۔ اس میں کچھ دیہات اور قصبات بھی شامل ہیں جن کی مجموعی آبادی پانچ لاکھ کے قریب ہے۔ چار اپریل 2003ء کو امریکی فوج اسی راستے سے بغداد میں داخل ہوئی اور پانچ روز کی لڑائی میں دارالحکومت فتح کر لیا تھا۔

ابو غریب: ابو غریب گورنری بغداد کے مغرب میں واقع ہے۔ اس کے آس پاس بھی کئی اہم قصبے ہیں۔ اس شہر میں بین الاقوامی ہوائی اڈا اور عراق کی بدنام زمانہ جیل "ابو غریب" بھی واقع ہیں۔ شہر کی آبادی تقریباً 07 لاکھ 50 ہزار ہے۔

التاجی: یہ مقام شمالی بغداد میں واقع ہے۔ چند دفاعی اہمیت کے حامل قصبوں کے علاوہ شہر میں ایک بڑے فوجی اڈے سے اس کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔ اس کی آبادی بھی نصف ملین ہے۔

مدائن: جنوب مشرقی بغداد میں واقع ہے۔ سلمان بک اس کا اہم ترین دفاعی مرکز ہے جبکہ آبادی ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

الطارمیہ: شمالی بغداد کا اہم ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ اس میں چھوٹے بڑے کئی قصبے ہیں اور آبادی نصف ملین ہے۔

استقلال: اس کا دوسرا نام "حسینیہ" بھی ہے۔ یہ مقام مشرقی بغداد میں واقع ہے۔ اس میں الراشدیہ گنجان آباد شہر ہے تاہم مجموعی آبادی دس لاکھ سے زیادہ ہے۔ مذکورہ تمام مقامات کسی نہ کسی دور میں شیعہ، سُنی فسادات اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا مرکز بھی رہے ہیں۔ جس علاقے میں جس مکتب فکر کے پیروکاروں کی اکثریت ہے وہ انہیں کی بالا دستی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ تمام اہم مقامات میں مسلح جنگجو گروپ موجود ہیں۔

داعش کی جانب سے عراق میں موصل کو فتح کیے جانے کے بعد تیزی کے ساتھ بغداد کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔ نوری المالکی نے دارالحکومت کو بچانے کے لیے "اسی دفاعی لائن" کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔ شہر کے ان تمام داخلی اور خارجی راستوں پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں اور بڑی تعداد میں فوج کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

دارالحکومت کا دفاع مضبوط بنانے کے لیے اسپیشل ڈیفنس فورس، فیڈرل پولیس فورس اور دیگر سیکیورٹی ادارے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔