.

اسرائیل کا مشرقی القدس پر گرفت مضبوط بنانے کا منصوبہ

مقبوضہ شہر کی سماجی،اقتصادی ترقی کے لیے نو کروڑ ڈالرز کے منصوبے کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی کابینہ نے مقبوضہ مشرقی القدس کی سماجی اقتصادی ترقی کے لیے نوکروڑ ڈالرز مالیت کے منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت اس شہر کی سکیورٹی میں اضافہ کیا جائے گا اور پولیس کی نفری بڑھا دی جائے گی۔

مقبوضہ بیت المقدس کی بلدیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کا بڑا مقصد تشدد کا خاتمہ ہے اور اس کے لیے روزگار کی فراہمی ،تعلیم اور سماجی بہبود اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے مربوط کوششیں کی جائیں گی۔

اس منظور شدہ منصوبے کے تحت مقبوضہ القدس میں پولیس اہلکاروں کی تعداد کے علاوہ سکیورٹی کیمروں کی تعداد بھی بڑھائی جائے گی۔صہیونی پولیس کے ایک جائزے کے مطابق اس سے تشدد کے واقعات میں پچاس فی صد تک کمی واقع ہو گی۔

اسرائیل کے تحت میونسپلٹی تشدد کے جن واقعات میں کمی لانے کی خواہاں ہے،اس سے مراد قابض صہیونی حکام کی چیرہ دستیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو روکنا ہے اور ان کی نقل وحرکت کو محدود کرنا ہے۔نہتے فلسطینی جدید ہتھیاروں سے مسلح اسرائیلی فورسز کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ پتھراؤ ہی کرسکتے ہیں۔

اسرائیلی پولیس کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں مارچ اور اپریل میں سکیورٹی فورسز اور گاڑیوں پر پتھراؤ کے تین سو نوے واقعات پیش آئے تھے۔اس کے علاوہ درجنوں گاڑیوں کو چرا لیا گیا یا ان کی توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔

میونسپلٹی کے فراہم کردہ اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ مشرقی القدس میں تین لاکھ چھے ہزار فلسطینی رہ رہے ہیں لیکن ان کا سول درجہ سکونتی ہے، شہری نہیں ہے۔وہ شہر کی کل آبادی کا اڑتیس فی صد ہیں۔ان قریباً تمام فلسطینیوں کو مستقل سکونتی درجہ حاصل ہے یعنی ان کے پاس اسرائیلی شناختی کارڈز ہیں لیکن پاسپورٹ نہیں ہیں۔

القدس کے مکین فلسطینی بلدیاتی انتخابات میں تو ووٹ ڈال سکتے ہیں لیکن اسرائیل کے قومی انتخابات میں ووٹ دینے کے حق دار نہیں ہیں۔البتہ انھیں مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں رہنے والے فلسطینیوں کے برعکس آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت ہے۔

بائیں بازو کے اسرائیلی اخبار ہارٹز نے لکھا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد مقبوضہ بیت المقدس پر صہیونی ریاست کی گرفت کو مضبوط بنانا ہے اور اس کے تحت تین لاکھ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان روابط کو بھی بہتر بنانا ہے مگر اس منصوبے کا تعطل کا شکار امن مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں دریائے اردن کے غربی کنارے کے علاقے ،غزہ کی پٹی اور مشرقی القدس پر قبضہ کر لیا تھا۔اس نے بعد میں مشرقی القدس کو اپنی ریاست میں ضم کرلیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے اور وہ اس کو ایک مقبوضہ شہر ہی قرار دیتی ہے۔

فلسطینی 1967ء کی جنگ سے ماقبل کی سرحدوں کے مطابق غزہ کی پٹی ،غرب اردن اور القدس کے علاقوں پر مشتمل اپنی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس ہوگا۔امریکا بھی اس تجویز کا حامی ہےلیکن اسرائیل اس کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کبھی سرحدوں سے متعلق اپنی تجاویز پیش نہیں کی ہیں ۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل مشرقی بیت المقدس پر اپنا قبضہ اور مغربی کنارے کی وادی اردن میں اپنی موجودگی برقراررکھنا چاہتا ہے۔اس طرح وہ غرب اردن میں قائم یہودی بستیوں سے انخلاء کو بھی تیار نہیں۔ان کی حکومت نے القدس اور غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر بھی جاری رکھی ہوئی ہے اورسال 2013ء کے بعد سے یہودیوں کی آبادکاری کا عمل دُگنا تیز کردیا ہے۔