.

جاسوسی کے الزام میں مصری، اسرائیلی شہریوں کا ٹرائل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے پراسیکیوٹر جنرل نے دشمن ملک کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک مصری باشندے اور متعدد اسرائیلیوں کے خلاف مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق مصر سے تعلق رکھنے والے ایک ملزم کو گذشتہ روز سپریم کورٹ میں پیش کرنے کے ساتھ اس کے دیگر ساتھیوں کے خلاف عائد الزامات کے ثبوت بھی پیش کیے گئے۔

مصری پراسیکیوشن آفس کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے پولیس نے جزیرہ نما سینا سے حراست میں لیے گئے سلامہ سلیمان برکات کو عدالت میں پیش کیا۔ ملزم اور اس کے دو دیگر مفرور ساتھیوں جمعہ الداری الطرابینی اور شالوم فواسیر کے خلاف جلد ہی مزید قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔ مصری پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ شالوم فواسیر اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کا ایک اہم افسر ہے۔

خیال رہے کہ مصر میں حال ہی میں پانچ شہریوں، ایک اردنی انجینیئر اور اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس حکام کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ کا آغاز کیا تھا۔

اکتوبر 2011ء میں مصر اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت اسرائیل نے پچیس مصری قیدی اپنے ایک فوجی ایلن گریبل کے بدلے میں رہا کیے تھے۔