عراقی پارلیمنٹ کا اجلاس اسپیکر منتخب کئے بغیر ملتوی

اہم حکومتی تقرریوں پر ایوان میں اختلافات شدید ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں اعلی حکومتی عہدیداروں کے تقرر کے لئے منعقعد ہونے والا پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس اختلافات کے باعث بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔ صدر مجلس نے اجلاس آٹھ جولائی بروز منگل تک ملتوی کر دیا۔ اجلاس میں شریک ایک اہم عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہم وزیر اعظم، صدر اور اسپیکر کے ناموں پر اتفاق کئے بغیر اگلے اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

اپریل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد متخب ایوان کا یہ پہلا اجلاس تھا جس نے دستوری طور پر اسپیکر اور وزیر اعظم کا انتخاب عمل میں لانا تھا۔

اجلاس میں ایک اہم سیاسی اتحاد کے ارکان اور سربراہ ایاد علاوی شریک نہیں ہوئے جبکہ آغاز ہی میں سیٹ لاء لسٹ اور کردستانی ارکان پارلیمنٹ کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد اجلاس نصف گھنٹے کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔ اجلاس کی صدارت پارلیمنٹ کے بزرگ ترین رکن مھدی الحافظ کر رہے ہیں۔

حکومت سازی سے متعلق ملنے والی غیر مؤکد اطلاعات کے مطابق ملکی صدر کے لئے برھم صالح، طارق نجم نوری المالکی کی جگہ وزیر اعظم اور سلیم الجبوری پارلیمنٹ کے اسپیکر کا نام سامنے آ رہے ہیں۔

اعلی حکومتی عہدوں کے لیے پیش کئے جانے والے دیگر ناموں میں احمد الجلبی، عادل عبدالمھدی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدوار اسامہ النجیفی نمایاں تھے۔

عراقی قیادت کے لئے ابتدائی نامزدگیاں سامنے آنے کے بعد بھی پارلیمانی جماعتوں کے درمیان اختلاف کی حدت کم نہیں ہوئی۔

یہ اختلافات دراصل نیشنل الائنس کے اس اجلاس کے بعد سامنے آئے جو اتحاد کے سربراہ ابراھیم الجعفری کے دفتر میں منعقد ہوا اور اس میں نوری المالکی، اسلامی کونسل کے سربراہ عمار الحکیم سمیت دیگر اہم سیاستدان شریک ہوئے۔

اجلاس میں موجودہ اسپیکر کو ایوان کا از سر نو اسپیکر منتخب کرانے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ اس بات کا امکان ہے کہ ایوان کا پہلا اجلاس کورم کی کمی کا شکار ہو جائے اور اس طرح اللہ اللہ کر کے منعقد ہونے والا یہ جلسہ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں