حزب اللہ کی عراق کے اہل تشیع کو اسلحہ، رقوم کی فراہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں القاعدہ نواز شدت پسند تنظیم "دولت اسلامیہ عراق وشام" [داعش] کی فاتحانہ پیش قدمی کے بعد ایران اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ بھی میدان میں کود پڑے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق حزب اللہ، عراق کے اہل تشیع مسلک کے جنگجوؤں کو اسلحہ اور رقوم فراہم کر رہی ہے۔

امریکی تھنک ٹینک 'واشنگٹن انسٹیٹیوٹ برائے مشرق قریب اسٹڈی سینٹر' کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماضی میں عراق میں حزب اللہ کی سرگرمیاں محدود رہی ہیں۔ حزب اللہ کے جنگی ماہرین ایران کی بیرون ملک سرگرم نیم سرکاری تنظیم "القدس فورس" کے ہمراہ مشاورتی عمل میں شریک رہے ہیں۔ عراق میں حزب للہ کی محدود مداخلت کی بنیادی وجہ تنظیم کا شام میں سرگرم ہونا ہے۔ تاہم عراق کے شیعہ جنگجو حزب اللہ کی جنگی مہارت سے کسی نہ کسی حد تک استفادہ کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق کے موجودہ بحران میں حزب اللہ نے اپنے معدود چند ماہرین کو مشاورتی عمل کے لیے بغداد بھیجتی رہی ہے تاہم ان کا کردار صرف تربیت اور مشاورت تک ہی محدود ہے۔ حزب اللہ عراق کے شیعہ جنگجوؤں سنی عسکریت پسندوں کے خلاف سرگرم رکھنے کے لیے اسلحہ اور فنڈز بھرپور طریقے سے فراہم کر رہی ہے۔ حزب اللہ اور ایران کی "القدس فورس" مل کر عراق میں ایک موثر شیعہ عسکری فورس تشکیل دے سکتے ہیں۔

امریکی تھینک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق شام میں ساڑھے تین سال سے جاری بغاوت کے دوران حزب اللہ نے اپنے سیکڑوں جنگجو بشار الاسد کے دفاع پر قربان کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں تنظیم کو ماہر جنگجوؤں کی قلت کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ، عراق میں شیعہ مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے افرادی قوت فراہم نہیں کر سکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 2003ء میں ایران نے عراق میں "القدس فورس" کے زیر کمان کارروائیوں کے لیے حزب اللہ سے مدد طلب کی تھی۔

ایران کے مطالبے کے بعد حزب اللہ نے عراق کے شیعہ گروپوں کی مدد کے لیے 3800 کے نام سے ایک یونٹ تشکیل دی۔ یہ یونٹ عراق کی شیعہ ملیشیا کو فنڈز اور اسلحہ فراہم کرتی رہی ہے۔ اس کا خطرناک پہلو عسکریت پسندوں کو جنگی تربیت، اغواء اور بم دھماکوں کی تربیت ہے جو حزب اللہ کی جانب سے فراہم کی جاتی رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ اور ایران کی مشترکہ کارروائیاں صرف شام اور عراق تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ اشتراک عمل یمن تک پھیلا ہوا ہے۔ یمن میں بھی شیعہ ملیشیا کو جنگی تربیت اوراسلحہ کی فراہمی جاری ہے۔ اسلحہ میں طیارہ شکن میزائل جیسے بھاری ہتھیار بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں