عراق کے سرحدی شہر"القائم" پر فضائی حملہ، متعدد ہلاک

بغداد کے تحفظ کے لیے کنکریٹ کی دیوار تعمیر کا منصوبہ زیر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کی سرحد سے متصل عراقی شہر القائم میں ایک فضائی حملے میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے ہیں۔ 'العربیہ' کے نامہ نگار کے مراسلے کے مطابق حملہ آور طیاروں کی شناخت نہیں ہو سکی تاہم اسی نوعیت کا ایک حملہ چند روز قبل اس شہر میں شام کے جنگی طیاروں نے کیا تھا۔ اس کارروائی میں بھی کئی جنگجو مارے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق عراق کے سُنی اکثریتی شہر تکریت کے "سبائکر" فوجی اڈے کے قریب عسکریت پسندوں اور سرکاری فوج کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ قبل ازیں باغیوں کی جانب سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ انہوں نے مکمل طور پر فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے تاہم ان اطلاعات کی غیر جانب دار ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ سبائکر فوجی اڈہ تکریت میں نوری المالکی کی حامی فوج کا سب سے بڑا مرکز ہے جس میں ہزاروں عراقی فوجی موجود ہیں۔

خیال رہے کہ تکریت پر"داعش" کے جنگجوؤں اور کردوں کے قبضے کے بعد مالکی نواز ملیشیا نے شہر کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی جنگ شروع کر رکھی ہے۔ عراق میں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی کیے گئے تاہم سرکاری فوجیں تکریت کے بڑے شہر صلاح الدین کا قبضہ واپس لینے میں مسلسل تیسرے روز بھی ناکام رہی ہیں۔

ادھر دارالحکومت بغداد میں باغیوں کی ممکنہ کارروائیوں کے پیش نظر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حکومت نے دارالحکومت کو بچانے کے لیے بغداد شہر کے چاروں اطراف کنکریٹ کی دیوار کی تعمیر پر بھی غور شروع کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں