.

ماہراور تربیت یافتہ جہادیوں کو داعش میں شمولیت کی دعوت

خلیفہ ابوبکرکی ججوں ،ڈاکٹروں اور انجینیروں سے اسلامی ریاست میں آنے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جہادی گروپ کے سربراہ نے دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے انتظامی ، طبی اور عسکری صلاحیت کے حامل مسلمانوں کو اپنی نئی اعلان کردہ اسلامی ریاست میں آنے اور اپنے گروپ میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔

دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے سربراہ اور ازخود اعلان کردہ خلیفۃ المسلمین ابوبکر البغدادی نے منگل کو آن لائن جاری کردہ ایک آڈیو ریکارڈنگ میں کہا ہے کہ ''جو لوگ اسلامی ریاست کی جانب ہجرت کرسکتے ہیں تو وہ ایسا کریں کیونکہ دارالسلام کی جانب نقل مکانی ان پر فرض ہے''۔

داعش کے خلیفہ نے کہا ہے کہ ان کی اس اپیل کا خاص طور پر ججوں ،عسکری ،فوجی اور انتظامی صلاحیت کے حامل افراد ،ڈاکٹروں اور انجینیروں پر اطلاق ہوتا ہے''۔انھوں نے اپنے گروپ کے جنگجوؤں سے کہا ہے کہ ''دنیا بھر میں آپ کے بھائی منتظر ہیں کہ ان کو بچایا جائے''۔

داعش نے اتوار کوعراق اور شام میں اپنے زیر نگیں علاقوں میں خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی شوریٰ کونسل نے اپنے سربراہ ابو بکر البغدادی کو خلیفہ مقرر کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے امیرالمومنین ہوں گے۔

داعش کا کہنا ہے کہ اس کی خلافت شام کے شمالی شہر حلب سے لے کر عراق کے مشرقی صوبے دیالا تک پھیلی ہوئی ہے۔انھوں نے ان تمام علاقوں کے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ نئے قائد کی اطاعت کی بیعت کریں اور ان کے احکامات کو مانیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے 10 جون کے بعد سے عراق کے بیشتر شمالی شہروں پر قبضہ کرکے وہاں اپنا نظام حکومت قائم کررکھا ہے۔انھوں نے عراقی فوج سے امریکی ساختہ حموی فوجی گاڑیاں اور دوسرے فوجی سازوسامان پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔اب وہ ان ہتھیائے گئے امریکی ساختہ ہتھیاروں ،ہیلی کاپٹروں اور کثیرالمقاصد حموی گاڑیوں کو عراقی فورسز کے خلاف لڑائی میں استعمال کررہے ہیں۔عراق میں داعش کی تیزرفتار عسکری کامیابیوں پر دفاعی تجزیہ کار اور ماہرین ابھی تک انگشت بدنداں ہیں۔

داعش گذشتہ تین سال سے پڑوسی ملک شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف بھی برسر جنگ ہے اور اس نے شام کے شمالی شہروں پر قبضہ کرکے وہاں بھی اپنا نظام حکومت قائم کررکھا ہے لیکن خانہ جنگی کا شکار اس ملک میں داعش کی اعتدال پسند باغی جنگجو گروہوں اورالقاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے ساتھ بھی لڑائی ہورہی ہے۔