نوعمر فلسطینی اغوا کے بعد صبح سویرے شہید

انتقامی طور پر شہید کیے جانے کے شبہ ہے: پولیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک فلسطینی نو عمر کو بدھ کے روز صبح سویرے اغوا کرنے کے بعد تین مبینہ طور پر اسرائیلی نوجوانوں کی پر اسرار موت کا بدلہ لینے کے لیے شہید کر دیا گیا ہے۔ فلسطینی نوعمر کی اس انتقامی شہادت کی اسرائیلی فوج کے زیر انتظام ریڈیو نے بھی بالواسطہ تصدیق کر دی ہے۔

اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزن فیلڈ کے مطابق شہید کیے گئے فلسطینی بچے کو ایک گاڑی پر زبردستی لے جایا گیا ۔ جس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ اس بچے کو اغوا کیا گیا تھا۔

اسرائیلی پولیس ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اغوا کے بعد بچے کی تلاش کے لیے سڑکیں بھی بلاک کر دی گئی تھیں۔ لیکن کامیابی نہ ہوئی۔

دوسری جانب اسرائیلی مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک فلسطینی بچے کو ایک مارکیٹ کے قریب نامعلوم گاڑی کے ذریعے اغوا کر کے لے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ بعد ازاں پولیس کو ایک بچے کی لاش مل گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس ترجمان روزن فیلڈ کا کہنا ہے کہ بچے کی لاش پولیس کو یروشلم سے متصل جنگل سے ملی ہے اور پولیس اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ اس بچے کو انتقام کا نشانہ تو نہیں بنایا گیا۔

واضح رہے فلسطینی بچے کی شہادت کا یہ واقعہ تین اسرائیلی نو عمروں کی آخری رسومات کے ایک روز بعد پیش آیا ہے۔ ان تین اسرائیلیوں کو 12 جون کو اغوا کیا گیا تھا، البتہ ان کی لاشیں پیر کے روز ملی تھیں۔

ان اسرائیلیوں کی لاشوں کے ملنے کے بعد اسرائیل نے انتقام لینے کی دھمکی دی تھی، جبکہ حماس نے اس واقعے سے تعلق کی تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں