"داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلحہ دیا جائے"

اسلحہ نہ ملنے کی صورت میں شامی محاذ چھوڑنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بشار الاسد کی فوج اور شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف شمالی شام کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں برسر پیکار جنگجووں کے گیارہ گروپوں نے نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں ہفتے کے اندر اسلحہ فراہم نہ کیا گیا تو وہ ہتھیار پھینک کر اپنے لوگوں کو میدان جنگ سے واپس بلانے پر مجبور ہوں گے۔

جنگجووں کے یہ گروپ شمالی شہر حلب کے مضافات، الرقہ اور دیر الزور میں داد شجاعت دے رہے ہیں۔ انہی علاقوں میں اس سال جنوری سے سرکاری فوج کے خلاف لڑنے والے گروپوں کے داعش تنظیم سے بھی مڈ بھڑ جاری تھی۔ داعش کے جنگجو اس سے پہلے بشار الاسد حکومت کے خلاف جنگجووں کے ساتھ مل کر لڑائی کر رہے تھے۔

ابو بکر البغدادی کی سربراہی میں داعش تنظیم نے حالیہ چند ہفتوں کے دوران عراق کے ساتھ ساتھ شام میں بھی اپنے حملے بڑھا دیئے ہیں جس کے بعد ان کا شام کے شمالی اور مغربی علاقوں پر تسلط مضبوط ہوا اور حال ہی میں انہوں نے عراق اور شام میں اپنے زیر نگیں علاقوں کے اندر 'اسلامی ریاست' قائم کا اعلان کر دیا۔

شام کے جن جنگجووں گروپوں نے مشترکہ بیان میں اسلحہ فراہمی کا مطالبہ کیا ہے ان میں 'لواء الجھاد فی سبیل اللہ، 'لواء ثوار الرقہ'، تجمع کتائب منبج' الجبھہ الشرقیہ احرار شام اور دیگر شامل ہیں۔ اگرچہ ان جنگجو گروپوں کی افرادی قوت کا اصل اندازہ لگانا مشکل ہے، تاہم ان کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا رہا ہے کہ جنگجو داعش کے زیر نگین علاقوں میں موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں