.

اردن: جہادی رہنما نے داعش کی خلافت مسترد کر دی

داعش کی خلافت القاعدہ کے لیے بھی ایک چیلنج ہے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن سے تعلق رکھنے والے جہادی نظریات کے حامل جہادی رہنما نے داعش کی طرف سے عراق و شام کے لیے کیے گئے اعلان خلافت کو مسترد کر دیا ہے۔

اردنی جہادی رہنما عیصام برقاوی المعروف ابو محمد المقدیسی نے فیس بک پر داعش کی اعلان کردہ خلافت پر اعترض کیا ہے کہ '' کیا ہر مسلمان اور کمزور و لاچار مسلمان اس اعلان کی گئی خلاف کے پرچم تلے پناہ لے سکتا ہے، نیز یہ خلافت اپنے تمام مخالفین کے خلاف شمشیر برہنہ نہ ہو گی۔

واضح رہے داعش نے اتوار کے روز عراق اور شام کے زیر قبضہ علاقوں میں خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس سے پہلے خلافت ، خلافت عثمانیہ کے نام سے موجود تھی جسے بیسوں صدی کی تیسری دہائی کے شروع میں ختم کردیا گیا تھا۔

عراق و شام کے علاقوں میں قائم کی گئی اس خلافت کا سربراہ داعش کے رہنما بکر البغدادی کو بنایا گیا ہے۔ عیصام برقاوی نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ خلافت کے اعلان کے بعد عراق، شام اور دوسری جگہوں پر لڑنے والے جنگ جووں کا مستقبل کیا ہو گا۔

خیال رہے اردنی جہادی رہنما کو طالبان کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کے الزام میں حراست میں رکھا گیا تھا تاہم 16 جون کو رہا کر دیا گیا ہے۔

عیصام برقاوی نے مسلمانوں کو قتل کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا '' کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ انصاف کے لیے بلند ہونے والی آواز کو خاموش کر سکتے ہیں ؟ پہلے خود توبہ کریں اپنی اصلاح کریں اور مسلمانوں کو قتل کرنا بند کریں۔''

جہادیوں سے متعلق امور کے ماہرین کا خیال ہے عراق و شام میں اعلان خلافت القاعدہ کو براہ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ان ماہرین کے مطابق یہ مشکل ہے کہ القاعدہ سے منسلک بڑے گروپ فوری طور پر داعش کی فرمانبرداری قبول کر لیں۔

اردنی جہادیوں کے حوالے سے یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ یہ داعش کے حق میں نہیں ہیں بلکہ القاعدہ اور اس سے منسلک النصرہ فرنٹ کے حامی ہیں۔

داعش کے اعلان کے بعد اردن میں یہ خوف بھی پیدا ہو گیا کہ سنی عسکریت پسند اردن میں بھی لڑائی شروع کر دیں گے۔