.

عراق:شمالی شہر تکریت میں 50 بھارتی نرسیں یرغمال

مسلح جنگجو نرسوں کو دو بسوں میں بٹھا کر کہیں اور لے گئے:بھارتی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر تکریت میں بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والی قریباً پچاس نرسوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

نئی دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے ایک نیوزبریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ ان نرسوں کو ان کی مرضی کے بغیر بسوں پر بٹھا کر کہیں اور لے جایا گیا ہے۔البتہ انھوں نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ انھیں کس کے حکم پر بسوں پر سوار کرایا گیا ہے اور کہاں منتقل کردیا گیا ہے۔

ترجمان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا ان نرسوں کو اغوا کر لیا گیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ''لڑائی والے علاقے میں کسی کی کوئی آزاد مرضی نہیں ہوتی۔ایسی صورت میں انسانی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوتی ہیں''۔

کیرالا کے وزیر اعلیٰ اومن چاندی کے ایک سینیر مشیر نے جمعرات کو ان نرسوں سے فون پر بات کی ہے اور بتایا ہے کہ جنگجوؤں نے ان نرسوں کو اسپتال خالی کرنے کے لیے کہا تھا۔اس کے بعد انھوں نے ان کو زبردستی دو بسوں پر سوار کرا دیا تھا۔

بھارتی نرسیں سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت میں ایک اسپتال میں کام کررہی تھیں۔اس شہر پر بھی گذشتہ ماہ دولت اسلامی کے جنگجوؤں نے قبضہ کرلیا تھا۔ان نرسوں نے بھارتی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سرکاری فوج اور جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں زخمی ہوکر آنے والے افراد کا علاج کررہی ہیں۔

دوہفتے قبل عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل میں کام کرنے والے چالیس بھارتی تعمیراتی ورکروں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق ریاست پنجاب سے ہے اور وہ بغداد سے تعلق رکھنے والی کمپنی طارق نورالہدیٰ کے لیے کام کررہے تھے۔اس کمپنی کے ایک سابق ملازم نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ موصل میں بھارتی محفوظ نہیں تھے۔

موصل ، تکریت اور عراق کے شمالی علاقے میں واقع دوسرے شہروں اور قصبوں پر دولت اسلامی عراق اور شام (داعش) اور اس کے اتحادی مسلح قبائلیوں نے گذشتہ تین ہفتوں کے دوران سرکاری فوج سے لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا ہے۔

بھارتی حکومت نے گذشتہ ماہ ایک بیان میں عراق میں اسلامی جنگجوؤں کی مزاحمتی سرگرمیوں کی مذمت کی تھی اور وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔واضح رہے کہ بھارت روایتی طور پر غیر جانبداری کی خارجہ پالیسی اور سفارت کاری پرعمل پیرا رہا ہے لیکن اس نے اس روایت کو توڑتے ہوئے اسلامی جنگجوؤں کے مقابلے میں بغداد حکومت کی حمایت کی تھی۔

واضح رہے کہ اس وقت عراق میں قریباً دس ہزار بھارتی شہری مختلف شعبوں میں کام کررہے ہیں لیکن وہ زیادہ تر داعش اور عراقی فوج کے درمیان لڑائی سے غیر متاثرہ علاقوں میں کام کررہے ہیں۔وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق قریباً ایک سو بھارتی ورکر لڑائی والے علاقوں میں پھنس کررہ گئے ہیں۔ان میں چھیالیس نرسیں تھیں۔بھارتی حکومت ان سے رابطے میں ہے اور ایک سینیر سفارت کار کو ان کی ملک واپسی میں معاونت کے لیے بغداد بھیجا گیا تھا۔