.

فلسطینی لڑکے کی شہادت: القدس میدان جنگ میں تبدیل

غزہ میں بمباری سے متعدد شہری زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر میں گذشتہ روز ایک سولہ سالہ فلسطینی لڑکے محمد ابو خضیر کے اغواء کے بعد قتل کے ردعمل میں فلسطین بھر میں صہیونی ریاست کے خلاف غم وغصہ کی فضا پائی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ابو خضیر کی شہادت کی خبر پھیلتے ہی بیت المقدس میں شہری اسرائیل کے خلاف نعرے لگاتے گھروں سے باہر نکل آئے اور رات گئے تک فوج سے الجھتے رہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مقبوضہ بیت المقدس کے مختلف مقامات پر سیکڑوں مشتعل فلسطینیوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اسرائیلی فوجی، پولیس اور بارڈر فورسز کے اہلکار فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کے ساتھ اشک آور گیس کا بھی بھرپور استعمال کرتے رہے تاہم اس کے باوجود فلسطینیوں نے صہیونی جارحیت کے خلاف اپنا احتجاج بدستور جاری رکھا۔ مظاہرین کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں پر سنگ باری کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے شمالی بیت المقدس میں شعفاط کالونی کے تمام داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے تھے جس کے نتیجے میں مظاہرین کو ایک جگہ جمع ہونے میں مشکلات کا سامنا رہا۔

عینی شاہدین کے مطابق مشتعل مظاہرین اسرائیل کے خلاف تیسری تحریک انتفاضہ شروع کرنے کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے۔ انہوں نے مقبوضہ بیت المقدس کے شہریوں کو یہود دہشت گردوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے قومی کمیٹی کی تشکیل کا بھی مطالبہ کیا۔

اغواء کی فوٹیج منظرعام پر آ گئی

درایں اثناء بدھ کو شمالی بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں شہید ہونے والے محمد ابو خضیر کے اغواء کی ویڈیو منظرعام پر آ گئی ہے۔

ابو خضیر کے والد حسین ابو خضیر نے بتایا کہ اس کے بیٹے کے اغواء کی ویڈیو سامنے آ گئی ہے۔ یہ ویڈیو فوٹیج پولیس نے جائے وقوعہ کے قریب لگے کلوز سرکٹ کیمروں سے حاصل کی ہے۔ حسین ابو خضیر کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نامعلوم یہودی آباد کار ایک کار پرآئے اور ابو خضیر کواغواء کر کے غائب ہو گئے۔ اغواء کے آدھ گھنٹے بعد بچے کی جلی ہوئی نعش شمالی بیت المقدس میں ایک جنگل سے ملی جسے پوسٹمارٹم کے لیے اسرائیلی پولیس اپنے ساتھ لے گئی تھی۔

شہید کے چچا زاد ماجد ابو خضیر نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ خفیہ کیمروں سے جو فوٹیج سامنے آئی ہے اس سے صاف لگ رہا ہے کہ یہ اغواء کی واردات تھی۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نماز فجر کے وقت ابو خضیر مسجد کے قریب نماز کے انتظار میں بیٹھا ہے۔ اس دوران ایک نامعلوم کار اس کے قریب آ کر رکتی ہے، جس میں سے دو افراد نکل کر اس پر جھپٹ پڑتے ہیں اور اسے کار میں ڈال کر نامعلوم سمت میں لے جاتے ہیں۔ ویڈیو فوٹیج کے مطابق کار نہایت تیزی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اور سرخ اشارہ توڑ کر کیمرے کی آنکھ سے اوجھل ہو جاتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مقتول کے کزن نے بتایا کہ فوٹیج میں دکھائی دینے والی کار کا نمبر اسرائیلی پولیس کے پاس پہلےسے موجود ہے، کیونکہ اسی کار پر سوار کچھ نامعلوم افراد نے تین روز قبل شعفاط ہی کے مقام سے دس سالہ فلسطینی موسیٰ زلوم کو اغواء کرنے کی کوشش کی تھی تاہم اس کی والدہ کی بروقت کارروائی سے اغواء کار بھاگ گئے تھے۔

تیسری تحریک انتفاضہ کی کال

درایں اثناء اسرائیلی فوج کی جانب سے تیرہ جون کو تین یہودی آباد کاروں کے اغواء کے بعد فلسطینی شہریوں کے خلاف جو کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے اس نے فلسطینی عوام میں سخت غم وغصے کی کیفیت پیدا کی ہے۔ گذشتہ روز ایک معصوم بچے کو اغواء کے بعد بے دردی سے شہید کیے جانے کے بعد فلسطینیوں میں پہلے سے موجود اشتعال میں اضافہ ہو گیا ہے۔

فلسطینیوں میں پائے جانے والے غم وغصے کا اندازہ گذشتہ روز شعفاط کالونی سے ابو خضیر کے اغواء کے رد عمل میں دیکھا گیا۔ جیسے ہی بچے کے اغواء کے بعد قتل کی خبر سامنےآئی تو شعفاط میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ جیسے جیسے یہ خبر پھیلتی گئی پورا بیت المقدس سڑکوں پر تھا اور مغربی کنارے میں بھی اس وحشیانہ کارروائی کے خلاف فلسطینی گھروں سے نکل آئے تھے۔

عوام کے جذبات کو دیکھتے ہوئے اسلامی تحریک مزاحمت"حماس" نے اسرائیل کے خلاف تیسری تحریک انتفاضہ کی کال دی ہے۔ حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں برسرااقتدار دائیں بازو کے انتہا پسندوں کہ شہ پر نہتے فلسطینیوں پر مظالم کی انتہا کر دی گئی ہے۔ لہٰذا فلسطینی عوام صہیونیوں کی جانب سے نفرت اور نسل پرستانہ کارروائیوں کے جواب میں ایک نئی تحریک انتفاضہ شروع کریں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلسطینی شہر الخلیل میں تین یہودی آباد کاروں کے اغواء کے بعد قتل کے واقعے پر سوشل میڈیا پر فلسطینیوں سے انتقام پراکسایا جا رہا ہے۔ اسرائیل کے انتہاپسند گروپوں کی جانب سے فیس بک اور دیگر سماجی رابطے کی ذرائع کو فلسطینیوں سے نفرت کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر فلسطین مخالف مہم میں پیش پیش انتہا پسند تین یہودی آباد کاروں کے قتل کا انتقام لینے کے منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں۔ مبصرین کے خیال میں گذشتہ روز بیت المقدس میں ایک کم عمرفلسطینی کا اغواء کے بعد بہیمانہ قتل بھی یہودیوں کی انہی انتقامی کارروائیوں کا حصہ ہے۔

درایں اثناء غزہ کی پٹی پر جمعرات کو علی الصباح اور رات گئے اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بمباری میں فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔