غزہ سے اسرائیل پر راکٹوں کی بارش

اسرائیلی وزیر بھی زیر زمین بنکر میں پناہ لینے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

مقبوضہ بیت المقدس میں دو روز قبل انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں ایک نو عمر فلسطینی کے اغواء اور بہیمانہ قتل کے بعد فلسطین بھر میں کشیدگی کی فضاء بدستور برقرار ہے۔

مُشتعل فلسطینیوں نے اسرائیلی فوج سے جھڑپوں کے ساتھ غزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل میں دسیوں راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔ راکٹ حملوں کے نتیجے میں کئی یہودی کالونیوں میں آگ بھڑک اٹھی تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق غزہ کی پٹی کے قریب واقع جنوبی اسرائیل کی یہودی کالونیوں میں سیکیورٹی کے سخت انتطامات کیے گئے ہیں۔ جمعرات کو وقفے وقفے سے یہودی کالونیوں میں راکٹ حملوں پر خطرے کی سائرن بجتے رہے۔ راکٹ حملوں کے بعد یہودی آباد کار زمین دوز بنکروں اور محفوظ پناہ گاہوں میں چلے گئے تھے۔ آخری اطلاعات تک ان حملوں میں کسی قسم کے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

خیال رہے کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی تنصیبات پر راکٹ حملے اس وقت شروع ہوئے تھے جب غرب اردن کے الخلیل شہر سے تین یہودی لڑکوں کے مبینہ اغواء کے رد عمل میں اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا، تاہم تازہ حملے بیت المقدس میں سولہ سالہ محمد ابو خضیر کی نامعلوم انتہا پسندوں کے ہاتھوں اغواء کے بعد قتل کا رد عمل بتائے جا رہے ہیں۔

فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے اسرائیلی تنصیبات پر راکٹ حملوں کے جلو میں اسرائیلی حکومت نے غزہ کی پٹی میں ایک بڑی فوجی کارروائی کا بھی عندیہ دیا ہے۔ غزہ جنوبی اسرائیل پر تازہ راکٹ حملے اسرائیل کو نہتے شہریوں کے خلاف جارحیت کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔

درایں اثناء بدھ کو شمالی بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں شہید ہونے والے محمد ابو خضیر کے اغواء کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی ہے۔

شہید کے والد حسین ابو خضیر نے بتایا کہ اس کے بیٹے کے اغواء کی ویڈیو سامنے آ گئی ہے۔ یہ ویڈیو فوٹیج پولیس نے جائے وقوعہ کے قریب لگے کلوز سرکٹ کیمروں سے حاصل کی ہے۔ حسین ابو خضیر کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نامعلوم یہودی آباد کار ایک کار پرآئے اور ابو خضیر کو اغواء کر کے غائب ہو گئے۔ اغواء کے آدھ گھنٹے بعد بچے کی جلی ہوئی نعش شمالی بیت المقدس میں ایک جنگل سے ملی جسے پوسٹمارٹم کے لیے اسرائیلی پولیس اپنے ساتھ لے گئی تھی۔

شہید کے چچا زاد ماجد ابو خضیر نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ خفیہ کیمروں سے جو فوٹیج سامنے آئی ہے اس سے صاف لگ رہا ہے کہ یہ اغواء کی واردات تھی۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نماز فجر کے وقت ابو خضیر مسجد کے قریب نماز کے انتظار میں بیٹھا ہے۔ اس دوران ایک نامعلوم کار اس کے قریب آ کر رکتی ہے، جس میں سے دو افراد نکل کر اس پر جھپٹ پڑتے ہیں اور اسے کار میں ڈال کر نامعلوم سمت میں لے جاتے ہیں۔ ویڈیو فوٹیج کے مطابق کار نہایت تیزی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اور سرخ اشارہ توڑ کر کیمرے کی آنکھ سے اوجھل ہو جاتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مقتول کے کزن نے بتایا کہ فوٹیج میں دکھائی دینے والی کار کا نمبر اسرائیلی پولیس کے پاس پہلےسے موجود ہے، کیونکہ اسی کار پر سوار کچھ نامعلوم افراد نے تین روز قبل شعفاط ہی کے مقام سے دس سالہ فلسطینی موسیٰ زلوم کو اغواء کرنے کی کوشش کی تھی تاہم اس کی والدہ کی بروقت کارروائی سے اغواء کار بھاگ گئے تھے۔

درایں اثناء اسرائیلی فوج کی جانب سے تیرہ جون کو تین یہودی آباد کاروں کے اغواء کے بعد فلسطینی شہریوں کے خلاف جو کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے اس نے فلسطینی عوام میں سخت غم وغصے کی کیفیت پیدا کی ہے۔ گذشتہ روز ایک معصوم بچے کو اغواء کے بعد بے دردی سے شہید کیے جانے کے بعد فلسطینیوں میں پہلے سے موجود اشتعال میں اضافہ ہو گیا ہے۔

فلسطینیوں میں پائے جانے والے غم وغصے کا اندازہ گذشتہ روز شعفاط کالونی سے ابو خضیر کے اغواء کے رد عمل میں دیکھا گیا۔ جیسے ہی بچے کے اغواء کے بعد قتل کی خبر سامنےآئی تو شعفاط میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ جیسے جیسے یہ خبر پھیلتی گئی پورا بیت المقدس سڑکوں پر تھا اور مغربی کنارے میں بھی اس وحشیانہ کارروائی کے خلاف فلسطینی گھروں سے نکل آئے تھے۔

عوام کے جذبات کو دیکھتے ہوئے اسلامی تحریک مزاحمت"حماس" نے اسرائیل کے خلاف تیسری تحریک انتفاضہ کی کال دی ہے۔ حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں برسرااقتدار دائیں بازو کے انتہا پسندوں کہ شہ پر نہتے فلسطینیوں پر مظالم کی انتہا کر دی گئی ہے۔ لہٰذا فلسطینی عوام صہیونیوں کی جانب سے نفرت اور نسل پرستانہ کارروائیوں کے جواب میں ایک نئی تحریک انتفاضہ شروع کریں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلسطینی شہر الخلیل میں تین یہودی آباد کاروں کے اغواء کے بعد قتل کے واقعے پر سوشل میڈیا پر فلسطینیوں سے انتقام پراکسایا جا رہا ہے۔ اسرائیل کے انتہاپسند گروپوں کی جانب سے فیس بک اور دیگر سماجی رابطے کی ذرائع کو فلسطینیوں سے نفرت کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر فلسطین مخالف مہم میں پیش پیش انتہا پسند تین یہودی آباد کاروں کے قتل کا انتقام لینے کے منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں۔ مبصرین کے خیال میں گذشتہ روز بیت المقدس میں ایک کم عمرفلسطینی کا اغواء کے بعد بہیمانہ قتل بھی یہودیوں کی انہی انتقامی کارروائیوں کا حصہ ہے۔

درایں اثناء غزہ کی پٹی پر جمعرات کو علی الصباح اور رات گئے اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بمباری میں فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں