فلسطینی شہید کے جنازے میں اسرائیل مخالف جذبات عروج پر

ابوخضیر کے جسد خاکی کو اٹھائے فلسطینیوں کا شدید احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی پولیس کی نگرانی میں انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں اغوا کے بعد قتل کئے ہونے والے 16 سالہ فلسطینی لڑکے ابو خصیر کی جمعہ کے روز منعقد ہونے والی نماز جنازہ میں شدید غصہ اور سخت اسرائیل مخالف عوامی رد عمل دیکھنے میں آیا۔

رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کی نماز کے بعد ابو خضیر کا فلسطینی پرچم میں لپٹا جسد خاکی فلسطینیوں نے ہاتھوں میں اٹھا کر شہر کی سڑکوں پر مارچ کیا۔ جنازے کے شرکاء شہید نوجوان سے اظہار یکجہتی کے لئے 'شہید پر ہماری جان قربان' اور اسرائیل مخالف نعرے لگا رہے تھے۔

دوسرے شہروں میں بھی ابو خضیر کے جنازے ہی کے وقت احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کی اسرائیلی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں جس میں مظاہرین کے پولیس اہلکاروں پر پتھراو کے بعد صوتی بم اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔ ان جھڑپوں میں کسی کے زخمی یا گرفتار ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

یاد رہے کہ ابو خضیر کا اغوا کے بعد قتل دراصل بارہ جون کو اغوا ہونے والے تین اسرائیلی لڑکوں کے اغوا اور بعد میں پراسرار طور پر ہلاک کئے جانے کا ردعمل بتایا جاتا ہے۔ تین اسرائیلی لڑکوں کے اغوا اور پھر مردہ پائے جانے اور پھر بعد میں القدس سے نوجوان لڑکے کے اغوا کے بعد زندہ جلائے جانے کے واقعے نے حالات میں کشیدگی پیدا کر دی ہے۔

اسرائیل نے غزہ سے اپنی یہودی بستیوں پر فائر کئے جانے والے شارٹ رینج راکٹوں کے بعد علاقے پر شدید بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا جبکہ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فوج کو چوکس رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر حماس کے زیر نگیں علاقوں سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ باری کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ کسی بھی غزہ پر حملہ کر سکتے ہیں۔

اسرائیل نے دعوی کیا کہ جمعہ کے روز غزہ سے داغے جانے والے تین میزائل اور دو راکٹوں کو میزائل شکن سسٹم نے ناکارہ بنا دیا جبکہ اکا دکا راکٹ اسرائیل کے اندر خالی مقامات پر گرے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام نے بتایا کہ غزہ سے راکٹ باری کے جواب میں اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے علاقے پر توپخانے سے گولا باری کی، تاہم دونوں جانب ہونے والے کسی جانی اور مالی نقصان کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس]، جس پر اسرائیل میزائل حملوں کا الزام عاید کرتا ہے، نے روان ہفتہ بتایا کہ وہ مصری رابطہ کاروں کے ذریعے ایسے حملے روکنے کی مزید کوشش کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں