فلسطینی لڑکے کے اغواء کی ویڈیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی اخبار 'گارجیئن' نے اپنے آن لائن ایڈیشن میں ایک ویڈیو جاری کی ہے جس کے بارے میں اخبار کا دعوی ہے کہ اس میں سولہ سالہ فلسطینی لڑکے محمد ابو خضیر کے القدس میں اغواء کے مناظر محفوظ ہیں۔

ویڈیو کے ایک لانگ شارٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ محمد سڑک سے گذر رہا ہے، اس دوران چند لمحوں کے لیے ایک کار اس کے قریب رکتی ہے، پھر اسے اغواء کرنے کے بعد دوبارہ چل پڑتی ہے، جس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ محمد کو اغوا کر کے گاڑی میں ڈال لیا گیا۔

ویڈیو بلیک اینڈ وائٹ ہونے کی وجہ سے عام شخص گاڑی کا رنگ معلوم نہیں کر سکتا، تاہم ماہرین گاڑی کے رنگ اور میک کا تعین بہ آسانی کر سکتے ہیں۔

ادھر رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کی نماز کے بعد ابو خضیر کا فلسطینی پرچم میں لپٹا جسد خاکی فلسطینیوں نے ہاتھوں میں اٹھا کر شہر کی سڑکوں پر مارچ کیا۔ جنازے کے شرکاء شہید نوجوان سے اظہار یکجہتی کے لئے 'شہید پر ہماری جان قربان' اور اسرائیل مخالف نعرے لگا رہے تھے۔ ابو خضیر کے جنازے میں فلسطینیوں کا غم و غصہ نمایاں تھا۔

دوسرے شہروں میں بھی ابو خضیر کے جنازے ہی کے وقت احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کی اسرائیلی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں جس میں مظاہرین کے پولیس اہلکاروں پر پتھراو کے بعد صوتی بم اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔ ان جھڑپوں میں کسی کے زخمی یا گرفتار ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

یاد رہے کہ ابو خضیر کا اغوا کے بعد قتل دراصل بارہ جون کو اغوا ہونے والے تین اسرائیلی لڑکوں کے اغوا اور بعد میں پراسرار طور پر ہلاک کئے جانے کا ردعمل بتایا جاتا ہے۔ تین اسرائیلی لڑکوں کے اغوا اور پھر مردہ پائے جانے اور پھر بعد میں القدس سے نوجوان لڑکے کے اغوا کے بعد زندہ جلائے جانے کے واقعے نے حالات میں کشیدگی پیدا کر دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں