.

نوری المالکی کا وزارتِ عظمیٰ سے دستبردار ہونے سے انکار

پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں جیتیں، حکومت بنانا ہمارا حق ہے:بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے اندرون اور بیرون ملک سے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے تیسری مدت کے لیے وزارت عظمیٰ کی امیدواری سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا ہے۔

نوری المالکی کا جمعہ کو سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک بیان پڑھ کر سنایا گیا ہے جس میں انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ''میں وزیراعظم کے عہدے کے لیے امیدواری سے دستبردار نہیں ہوں گا۔میں بدستور ایک فوجی رپوں گا اور عراق اور اس کے عوام کے مفادات کا دفاع کرتا رہوں گا''۔

عراق کے شمالی صوبوں میں گذشتہ ماہ کے دوران دولت اسلامی کے جنگجوؤں اور مسلح قبائل کی پے درپے فتوحات کے بعد سے نوری المالکی پر اقتدار سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے لیکن وہ اپنی پالیسیوں کی ناکامی اور آدھے ملک میں بدامنی اور طوائف الملوکی کے باوجود تیسری مدت کے لیے بھی وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔

پہلے تو ان کے سنی اور کرد حریف ہی ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے تھے لیکن اب ان کے شیعہ کیمپ سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں اور مذہبی رہ نماؤں نے بھی دباؤ بڑھا دیا ہے اور وہ قومی اتفاق رائے سے نئی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن نوری المالکی کا اس بات پر اصرار ہے کہ تیس اپریل کو منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں ان کے بلاک نے اکثریت حاصل کی تھی،اس لیے اس کو ہی وزیراعظم نامزد کرنے کا حق حاصل ہے۔

نوری المالکی کے اس بیان سے چندے قبل عراق کے سب سے معتبر اور بااثر شیعہ عالم دین آیت اللہ علی السیستانی نے اپنے خطبہ جمعہ میں ''پارلیمان کے پہلے اجلاس میں نئی حکومت کے قیام پر اتفاق رائے نہ ہونے کو''افسوسناک ناکامی '' قرار دیا ہے۔

ان کا یہ خطبہ جمعہ ان کی جانب سے جنوبی شہر کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی مسجد میں پڑھ کر سنایا گیا ہے۔ان کے نائب احمد الصافی نے تقریر میں کہا کہ ''گذشتہ منگل کو پارلیمان کا پہلا اجلاس منعقد ہوا تھا۔لوگ خوش امید تھے کہ اس کونسل (منتخب قومی اسمبلی) کی آئینی اور قانونی ذمے داریوں کو پورا کرنے کے لیے ایک اچھا آغاز ہوگا لیکن اس کے بعد ہوا کیا۔اجلاس کے اختتام سے قبل سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب عمل میں نہیں لایا جاسکا تھا اور یہ ایک افسوس ناک ناکامی ہے''۔

آیت اللہ علی السیستانی نے قبل ازیں بھی عراق کے تمام طبقات کی نمائندہ اور قومی اتفاق رائے سے نئی حکومت کی تشکیل پر زوردیا تھا لیکن ان کے ہم مذہب نوری المالکی کسی کی بات پر کان دھرنے کو تیار نہیں جس سے عراق کی علاقائی سالمیت کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں اور ملک کی نسلی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔

عراق کے سنی اکثریتی صوبوں کے بیشتر علاقوں پر اس وقت دولت اسلامی کے جنگجوؤں کا قبضہ ہے اور انھوں نے اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے جبکہ خود مختار کردستان کے صدر مسعود بارزانی نے گذشتہ روز علاقائی پارلیمان سے عراق سے علاحدگی کے لیے ریفرینڈم کی تاریخ مقرر کرنے کے لیے کہا ہے۔انھوں نے نوری المالکی کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کو عراق میں جاری بحران کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔