.

شام :داعش کے دوقصبوں پر قبضے کے بعد ہزاروں بے گھر

کھلے آسمان تلے پڑے ہزاروں افراد کو رمضان میں خوراک اور پانی کی قلت کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ دولت اسلامی شام وعراق (داعش ) کے جنگجوؤں نے شام کے مشرقی صوبے دیرالزور کے قصبے شہیل پر قبضے کے بعد تیس ہزار سے زیادہ افراد کو زبردستی بے گھر کردیا ہے۔

القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں نے گذشتہ جمعرات کو شہیل کو خالی کردیا تھا اور اس پر داعش کے جنگجوؤں نے قبضہ کرلیا تھا۔ النصرۃ محاذ نے اس کے علاوہ ایک اور قصبے المیادین کو بھی خالی کردیا تھا۔آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ داعش نے شہیل پر قبضے کے بعد سے وہاں سے تیس ہزار مکینوں کو زبردستی ان کے گھروں سے نکال باہر کیا ہے۔

داعش نے دیرالزور ہی کے دو اور قصبوں خشم اور تابیا جزیرہ سے بے گھر ہونے والے کم سے کم تیس ہزار شامیوں کو ان کے گھروں کو لوٹنے سے روک دیا ہے۔شہیل سے تعلق رکھنے والے کارکنان نے فیس بُک پر پوسٹ کی گئی ایک تحریر میں بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے تمام مکینوں کو قصبے کو خالی کرنے کے لیے کہا اور پھر وہ کاروں اور ٹینکوں پر سوار ہو کر اس میں داخل ہوگئے۔

انھوں نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے جس میں ثالث کار مقامی لوگوں کی بے دخلی کی شرائط کا اعلان کررہے ہیں۔وہ مکینوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے ہتھیار حوالے کردیں اور شہیل سے باہر رہیں تاوقتیکہ دولت اسلامی شام وعراق یہ محسوس کرلے کہ یہ قصبہ اب محفوظ ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ان دونوں قصبوں سے بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد اب بے یارو مدگار کھلے آسمان تلے پڑے ہیں اور انھیں رمضان میں خوراک اور پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ان مکینوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ داعش کے جنگجو ان کے گھروں میں لوٹ مار سکتے ہیں۔