.

فلسطینی نوعمر کو گھر پر 9 دن قید رکھنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی ایک عدالت نے فلسطینی نژاد امریکی لڑکے طارق ابوخضیر کو اپنے کزن کے بہیمانہ قتل اور صہیونی سکیورٹی فورسز کی چیرہ دستیوں کے خلاف احتجاج کی پاداش میں گھر پر نو دن تک قید رکھنے کی سزا سنائی ہے۔

اسرائیلی پولیس کی ترجمان لوبا سامری کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کی عدالت نے اتوار کو پندرہ سالہ طارق ابوخضیر کو نواحی علاقے بیت حنینہ میں گھر پر نظر بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔

ابوخضیر خاندان کا کہنا ہے کہ طارق کو اسرائیلی پولیس نے گذشتہ ہفتے محمد ابوخضیر کے قتل کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور مار پیٹ سے ان کی آنکھیں سوج گئی تھیں۔طارق امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک اسکول میں زیر تعلیم ہے اور وہ چھٹیوں پر اپنے آبائی شہر میں خاندان سے ملنے کے لیے آیا تھا۔

اس کے کزن سولہ سالہ محمد ابو خضیر کو گذشتہ بدھ کو مقبوضہ بیت المقدس کے نواح سے اغوا کرلیا گیا تھا اور اس کی جلی ہوئی لاش قریب واقع ایک جنگل سے ملی تھی۔فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اس کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اغوا کے بعد مارے جانے والے تین اسرائیلی لڑکوں کے انتقام میں قتل کیا گیا ہے۔اسرائیلی اخبار ہارٹز کی ویب سائٹ کی اطلاع کے مطابق پولیس نے اس کے قتل کے الزام میں چھے مشتبہ یہودی انتہا پسندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

اسرائیلی حکام نے ہفتے کے روز محمد ابوخضیر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کی تھی اور اس میں بتایا گیا تھا کہ اس نوعمر فلسطینی کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ فلسطینی شہری اس کے بہیمانہ قتل کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ گذشتہ چار روز سے اس گھناؤنے واقعے کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔