غزہ پر فوجی چڑھائی: اسرائیلی حکمراں اتحاد میں دراڑ

انتہا پسند وزیرخارجہ لائبرمین کی جماعت حکومتی اتحاد سے الگ ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے حکمراں اتحاد میں غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ فوجی کارروائی پر اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور انتہا پسند وزیرخارجہ ایویگڈور لائبرمین کی جماعت حکومتی اتحاد سے الگ ہوگئی ہے۔تاہم وہ بدستور حکومت میں شامل رہے گی۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ غزہ کی جانب سے جنوبی اسرائیل پر راکٹ حملوں کے ردعمل میں فلسطینیوں کے خلاف محدود کارروائی کے حق میں ہے جبکہ لائبرمین کی یسرائیل بیتنو حماس کے مزاحمت کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی وکالت کررہی ہے۔

لائبرمین اور نیتن یاہو کے درمیان 2013ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات سے قبل بھی اہم قومی امور پر اختلافات پائے جاتے تھے۔تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران ان کے درمیان غزہ پر فوجی چڑھائی اور اس پر دوبارہ قبضے کے معاملے پر اختلافات شدید ہوگئے ہیں۔

لائبرمین نے سوموار کو مقبوضہ بیت المقدس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا ہے:''یہ کوئی خفیہ راز نہیں کہ ہمارے درمیان بنیادی اختلافات پائے جاتے تھے جن کی وجہ سے ہم مزید اکٹھے کام نہیں کرسکتے تھے۔اس لیے ہم نے الکنیست کمیٹی کو بتادیا ہے کہ ہم الگ ہورہے ہیں اور ایک الگ دھڑا بنا رہے ہیں''

لیکن سیاسی اتحاد کے خاتمے کے باوجود لائبرمین کی جماعت مخلوط حکومت میں شامل رہے گی اور وہ بدستور وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہیں گے۔تاہم وہ اپنے اقدامات کے معاملے میں وزیراعظم سے کوئی رابطہ نہیں رکھیں گے اور اس وجہ سے منقسم کابینہ میں پالیسیوں کی منظوری مشکل ہوگی۔

لائبرمین نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ''اسرائیل نے 2012ء میں حماس کے خلاف ''آپریشن پلر آف ڈیفنس'' میں نمایاں کامیابی کی تھی اور فلسطینی تنظیم کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے 95 فی صد میزائلوں کو تباہ کردیا گیا تھا۔آج ان کے پاس 80 کلومیٹر تک مار کرنے والے سیکڑوں میزائل موجود ہیں''۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کی چیرہ دستیوں کے جواب میں غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی مزاحمت کار جنوبی اسرائیلی کی جانب راکٹ فائر کررہے ہیں اور انھوں نے گذشتہ چوبیس روز کے دوران ایک سو پینتیس راکٹ فائر کیے ہیں جبکہ اکیس کو اسرائیل کے آئرن ڈوم دفاعی نظام نے ناکارہ بنا دیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے ان راکٹ حملوں کے جواب میں غزہ میں مختلف علاقوں پر بمباری کی ہے جن کے نتیجے میں اب تک بارہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔اسرائیلی کابینہ کے سخت گیر اور انتہا پسند وزراء فلسطینیوں کے خلاف ان کارروائیوں کو کافی خیال نہیں کرتے ہیں۔اس لیے وہ زیادہ سخت اقدامات کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں