.

اسرائیل پر راکٹ حملے ہم نے کیے ہیں: القسام بریگیڈ

یہ حملے اسرائیلی بمباری سے 9 شہادتوں کے بعد کیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے اسرائیل کے جنوبی علاقوں کو راکٹوں سے نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ القسام بریگیڈ کی طرف سے ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان اسرائیل کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اسرائیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ درجنوں راکٹ جنوبی اسرائیل کے علاقوں پر فائر کیے گئے ہیں۔

واضح رہے اسرائیلی بیان میں پیر کے روز داغے گئے راکٹوں کے بارے میں متعین انداز میں نہیں کہا گیا تھا کہ ان راکٹوں کی کل تعداد کتنی تھی اور ان سے مجموعی طور پر کتنا نقصان ہوا ہے۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی حالیہ لہر اس وقت شدید تر ہو گئی ہے جب ایک فلسطینی بچے کو اغوا کے بعد شہید کر دیا گیا۔ اس کشیدگی میں کمی لانے اور فائربندی کے لیے مصری انٹیلی جنس حکام بھی متحرک ہو چکے ہیں لیکن اسرائیل کی تازہ بمباری سے 9 فلسطینیوں کی شہادت کے واقعے نے ان کوششوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

ان بیک وقت نو شہادتوں پر حماس نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا اسرائیل کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ اس کے بعد ہی پیر کے روز القسام بریگیڈ نے راکٹوں کا ایک مرتبہ پھر استعمال کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابقیہ راکٹ نیتفوت، عسکلان،اسدود اور اوفکیم کے علاقوں میں گرے ہیں، تاہم کسی نقصان کی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔ دوسری جانب حماس کے ساتھ نمٹنے کے معاملے پر اختلافات کے باعث اسرائیلی وزیر خارجہ لائیبرمین کی انتہا پسند پارٹی نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔