.

عراق میں چھ ماہ کے دوران 15 ہزار شہری ہلاک و زخمی

ہزاروں خفیہ حراستی مراکز میں بنیادی حقوق سے محروم ہیں: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خانہ جنگی کے شکار عراق میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران پندرہ ہزار عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ 10 ہزار افراد کو گرفتار کرنے کے بعد خفیہ جیلوں میں ڈالا گیا ہے، جہاں انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

یہ اعداد و شمار عراق میں پرتشدد واقعات اور اجتماعی خونریزی کی روک تھام کے لیے قائم آبزرویٹری کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں عراق میں رواں سال کی پہلی ششماہی میں ہونے والی تباہ کاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی مکمل تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ عراق میں بم دھماکوں اور دیگر پرتشدد واقعات میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران 6000 عام شہری جاں بحق اور 9081 زخمی ہوئے جبکہ دس ہزار افراد کو گرفتار کر کے خفیہ جیلوں میں ڈالا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نہتے شہریوں کے قتل عام کے یہ ہوش ربا اعداد و شمار عالمی برادری کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ عراق میں پچھلے گیارہ سال سے انسانی زندگی کی بے حرمتی کی گئی وہ تاریخ انسانی کا ایک سیاہ ترین باب ہے۔ گیارہ برسوں کے دوران لاکھوں عراقیوں کو نہایت بے دردی سے قتل کیا گیا لیکن کسی بھی عالمی فورم پر اس وحشیانہ قتل عام کا معاملہ نہیں اٹھایا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق میں دھماکوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کو جنگی جرم قرار دے اور ان کی روک تھام کے لیے جنیوا معاہدہ 1948ء کی روشنی میں فوری اور مٶثر اقدامات کیے جائیں۔

درایں اثناء عراق میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ نگار ڈاکٹر مصطفیٰ عیاش الکبیسی نے کہا کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں 10 ہزار افراد کو حراست میں لے کر جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ پابند سلاسل افراد کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ بیشتر قیدی فوج کے زیر انتظام خفیہ حراستی مراکز میں ہیں جہاں انہیں بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ عراق میں رواں سال کے آغاز کے ساتھ ہی نینویٰ، صلاح الدین اور الانبار شہروں میں فوج کے بڑے پیمانے پر ہونے والے سرچ آپریشنز کے دوران سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں کو حراست میں لیا گیا تھا۔