تل ابیب راکٹوں کے نشانے پر، خطرے کے سائرن بج اٹھے

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگی کارروائیوں میں شدت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ سے بدھ کے روز فائر کیے گئے کم از کم پانچ راکٹ تل ابیب اور اس کے مضافاتی علاقے میں گرے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے انتظام ریڈیو نے بتایا ہے کہ ایک رات کے دوران اسرائیلی فوج نے غزہ میں 160 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے اسرائیلی اعلان کے مطابق غزہ پر حملوں میں پچھلے چند دنوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے اور صرف دو دنوں کے دوران 430 مقامات پر حملے کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی جنرل موٹی الماذ کے مطابق غزہ کے خلاف جاری آپریشن کا آج دوسرا دن ہے۔ اس عرصے میں 120 راکٹوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی جنرل کے مطابق حماس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے مراکز، دو مکانات اور کئی زیر زمین سرنگوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی میزائل سسٹم کے تحت پانچ راکٹوں کو راستے میں ہی روک کر ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ایم 75 قسم کے چار راکٹ اسرائیلی تجارتی دارالحکومت پر فائر کیے گئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسرائیلی ریڈیو کا دعوی ہے کہ حماس کے اسلحہ کے ذخیرہ کو کافی نقصان پہنچایا کر اسے دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔

اسرائیلی فضائی حملوں سے صرف منگل کے روز ہونے والے نقصان کے بارے میں فلسطینی وزیر برائے پولیس و ہاوسنگ کا کہنا ہے کہ پچاس مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 1700 مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

اس سے ایک روز قبل اسرائیلی وزیر اعظم نے ان حملوں کے بعد اپنے ایک ٹی وی پر دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی کمیونٹی پر حملے برداشت نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

حماس کی طرف سے ان حملوں کے تناظر میں یہ خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں کہ اسرائیل نے اپنی زمینی افواج کو غزہ کی طرف کوچ کا حکم دے کر غزہ کا محاصرہ سخت کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیل کے ریزرو فوجی دستوں کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

بنجمن نیتین یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ '' میں نے افواج کو غزہ کے اندر حماس کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بڑھانے کا حکم دے دیا ہے، تاہم میں اسرائیلی عوام سے اپیل کروں گا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں کیونکہ یہ آپریشن طویل ہو سکتا ہے۔''

واضح رہے اسرائیلی فوج اس سے پہلے ہی زمینی کارروائی کا اشارہ دے چکی تھی۔ اس حوالے سے ساحلی علاقے میں اسرائیلی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بمباری سے بچنے والی پناہ گاہوں کے قریب رہیں۔ یہ ہدایت ساحل کے نزدیک 40 کلومیٹر کے فاصلے پر رہنے والوں کو کی گئی ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے ابتدائی طور پر 1500 فوجیوں کو غزہ کے اطرف میں بھیجا گیا ہے البتہ اس تعداد میں اضافہ ممکن ہے ۔اسرائیلی فوج کی طرف سے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا گیا کہ ''اسرائیی شہریوں کے تحفظ کے لیے بھرپور طاقت استعمال کی جائے گی، حماس بھی اس وقت تک محفوظ نہ رہ سکے گی جب تک اسرائیلی محفوظ نہیں ہو جاتے ہیں۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں