ایران: صحافیہ کو 50 کوڑوں اور 2 سال قید کی سزا

عدالت کا حکومت کے خلاف پراپیگنڈا مہم چلانے کے الزام میں قائم مقدمے پر فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایران کی ایک عدالت نے صحافیہ اور بلاگر مرزیہ سولی کو دو سال قید اور پچاس کوڑوں کی سزا سنائی ہے۔ صحافی خاتون پر الزام ہے کہ اس نے حکومت مخالف پراپیگنڈا مہم چلائی تھی۔

سزا پانے والی صحافیہ نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا ہے کہ اسے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پراپیگنڈے پر مبنی مواد شائع کرنے اور نقض امن کا سبب بننے کے الزام میں یہ سزا سنائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں خاتون پر مقدمہ جنوری 2012 میں قائم کیا گیا تھا۔

مقدمے کے اندراج کے کچھ ہی عرصے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا تھا، تاہم مقدمے کا فیصلہ قریباً اڑھائی سال بعد سامنے آیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافیہ کے غیر ملکیوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔

رسولی اس سے پہلے اصلاح پسند روزناموں سے وابستہ رہ چکی ہے،ان میں شارغ اور اعتماد نام کے اخبارات بھی شامل ہیں۔ وہ موسیقی اور آرٹ کے موضوعات پر لکھنے کے ساتھ ساتھ کتب پر تبصرے کرنے کی شہرت رکھتی ہے۔

خاتون صحافی کو سزا سنائے جانے پر صحافتی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان صحافیوں کو توقع تھی کہ ڈاکٹر حسن روحانی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سیاسی، ثقافتی اور صحافتی آزادیوں کی صورت حال بہتر ہو جائے گی لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں