.

نوری المالکی کا کردوں پر داعش کی مہمان نوازی کا الزام

اربیل داعش ،بعث پارٹی اور القاعدہ کی سرگرمیوں کا ہیڈکوارٹرز بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے خودمختار شمالی علاقے کردستان پر دولت اسلامی عراق وشام (داعش) سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی میزبانی کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

نوری المالکی نے بدھ کو اپنی ہفتہ وارنشری تقریر میں کہا ہے:''دیانتداری کی بات یہ ہے۔ہم اس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ہم اربیل (کردستان کا دارالحکومت) پر بھی خاموش نہیں رہ سکتے کیونکہ وہ داعش ،بعث پارٹی ،القاعدہ اور دوسرے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا ہیڈکوارٹرز بنا ہوا ہے''۔

واضح رہے کہ نوری المالکی کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کی وجہ سے ان کے اور کرد صدر مسعود بارزانی کے تعلقات میں رخنہ آچکا ہے اور موخرالذکر رہ نما عراقی وزیراعظم کو موجودہ صورت حال کا ذمے دار ٹھہرا رہے ہیں جس کے نتیجے میں عراق کی نسلی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔

شمالی صوبے نینویٰ اور اس کے دارالحکومت موصل پر گذشتہ ماہ داعش کے جنگجوؤں کی چڑھائی کے بعد سے بہت سے سنی مسلمان اور سرکاری عہدے دار جانیں بچا کر اربیل پہنچ چکے ہیں۔ان میں نینویٰ کے گورنر اثیل النجیفی بھی شامل ہیں۔نوری المالکی میدان جنگ میں تو داعش کی فتوحات کا راستہ نہیں روک سکے اور اب وہ سعودی عرب ایسے پڑوسی ممالک اور کرد لیڈروں پر داعش کے جنگجوؤں کی پشت پناہی کے بے بنیاد الزامات عاید کررہے ہیں۔