.

دہشت گردوں کے پاس جوہری مواد سے خطرہ نہیں: اقوام متحدہ

عراقی حکام سے رابطہ ہے، معلومات لے رہے ہیں: عالمی جوہری ادارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے جوہری امور کو ڈیل کرنے والے ادارے نے عراق میں عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگنے والے مبینہ جوہری مواد کے بارے میں کہا ہے کہ یہ کمتر درجے اور شدت کا حامل ہے ، اس سے سلامتی کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔

عراق نے 8 جولائی کو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کو تحریری طور پر بتایا تھا کہ ''عسکریت پسندوں نے ملک کے شمالی حصے میں ایسا جوہری مواد قبضے میں کر لیا ہے جو یونیورسٹی میں تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا تھا۔''

اس خط کے ملنے کے بعد عالمی جوہری ادارے کے ترجمان گل ٹوڈر نے میڈیا کو بتایا ہے کہ اس سلسلے میں عراقی حکام کے ساتھ مزید معلومات کے لیے باقاعدہ رابطہ ہے۔

ترجمان کے مطابق ''ابتدائی اطلاعات کی بنیاد پر ہمیں یقین ہے کہ جو مواد عسکریت پسندوں کے ہاتھ آیا ہے وہ کمتر درجے کا ہے اور اس سے امن و سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو گا، نہ ہی اس سے پرولیفریشن کا کوئی خطرہ ہے۔ ''

واضح رہے عراق اور شام میں اسلامی خلافت قائم کرنے کی دعویدار داعش نے عراق کے کئی علاقوں بشمول دوسرے بڑے شہر موصل پر پچھلے کئی دنوں سے قبضہ کر رکھا ہے۔