.

عراق پر امریکا سے تعاون کے لیے تیار ہیں: رفسنجانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک عراق میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق و شام کی پیش قدمی روکنے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔

خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" نے رفسنجانی کے جاپانی اخبار دیے ایک انٹرویو کے حوالے سے بتایا کہ عراق میں شورش پر قابو پانے کے لیے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہم آہنگی موجود ہے۔ مسئلے کے حل کے لیے واشنگٹن کو جب بھی ضرورت محسوس ہوئی تہران فوری مدد کرے گا۔ عراقی بحران کے حل کے لیے ممکنہ ایرانی تعاون سے متعلق سوال پر سابق صدر نے کہا کہ تہران معلومات کے تبادلے کے ساتھ سرمایہ کاری اور ٹکنالوجی کے شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جا سکتا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کا کہنا تھا کہ عراق کی موجودہ ابتر صورت حال کے بارے میں بعض امور پر امریکا اور تہران کے درمیان اختلافات بھی ہو سکتے ہیں تاہم انہیں دور کیا جا سکتا ہے۔ عراق کے بارے میں دونوں ملکوں کے اختلافات کی بنیادی وجہ شام میں جاری خانہ جنگی میں دونوں ملکوں کا الگ الگ موقف بھی ہو سکتا ہے، تاہم اس اختلاف کو عراق کے مسئلے کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ جون کو ویانا میں چھ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں دونوں ملکوں کے مذاکرات کاروں نے مختصر طور پر عراق کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان میری ہارف کا کہنا ہےکہ مستقبل قریب میں یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ امریکا کو عراق کے معاملے پر ایران سے بات چیت کرنی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان اور وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ عراق میں کسی قسم کی فوجی مہم جوئی کے لیے ایران کو شامل نہ کیا جائے۔ عملا ایسا ممکن بھی نہیں دکھائی دیتا ہے کیونکہ دونوں ملک جوہری تنازع سمیت کئی دوسرے تنازعات میں بھی الجھے ہوئے ہیں۔