.

''پاگل پن'' کا شکار مالکی اقتدار چھوڑ دیں: کرد صدر

عراقی وزیراعظم اپنی ناکامیوں کا دوسروں کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے خودمختار شمالی علاقے کردستان کے صدر مسعود بارزانی اور وزیراعظم نوری المالکی کے درمیان ایک مرتبہ پھر ٹھن گئی ہے اور کرد صدر کے ترجمان نے نوری المالکی کی گذشتہ کل کی ایک نشری تقریر کے ردعمل میں ایک سخت بیان جاری کیا ہے جس میں ان کے بارے میں کہا ہے کہ وہ پاگل پن کا شکار ہوچکے ہیں،اس لیے انھیں اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔

کرد صدر کی ویب سائٹ پر انگریزی میں جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''مالکی پاگل بن چکے ہیں اور اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں۔وہ اپنی ناکامیوں کے جواز میں ہر اقدام کررہے ہیں مگر ان ناکامیوں کا دوسروں کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں''۔

ترجمان نے نوری المالکی کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ''کردستان کو اس بات پر فخر ہے کہ اربیل ہمیشہ پسے ہوئے اور جبروتشدد کا شکار لوگوں کی جائے پناہ رہا ہے۔ان میں آپ بھی شامل ہیں اور آپ نے سابق آمریت کے دور میں اربیل ہی میں آکر پناہ لی تھی''۔

''اب اربیل آپ کی آمریت سے بچ کر آنے والوں کے لیے جائے پناہ ہے۔داعش اور دوسرے گروپوں کے لیے اربیل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔وہ آپ کے ساتھ ہی رہ رہے ہیں۔یہ آپ ہی کی شخصیت ہے جس نے داعش کو عراقی سرزمین اور فوج کے چھے ڈویژنوں کے اثاثے دیے ہیں''۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

کرد صدر نے بیان میں وزیراعظم نوری المالکی سے عراقی عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ''وہ اقتدار سے الگ ہوجائیں کیونکہ انھوں نے ملک کو تباہ کردیا ہے اور جوکوئی ملک کو تباہ کرتا ہے،وہ اس کو بحرانوں سے بچا نہیں سکتا ہے''۔

وزیراعظم نوری المالکی کے الزامی بیان کے بعد عراق کی عبوری کابینہ میں شامل کرد وزراء نے اجلاسوں کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔تاہم ایک سینیر کرد عہدے دار کا کہنا ہے کہ وزراء اپنا کام جاری رکھیں گے اور حکومت کو نہیں چھوڑیں گے۔دوسری جانب بغداد میں حکام نے دو کرد شہروں کے لیے مال بردار طیاروں کی پروازیں روک دی ہیں۔

نوری المالکی نے بدھ کو ایک نشری تقریر میں خودمختار کردستان پر دولت اسلامی عراق وشام (داعش) سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی میزبانی کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ ''دیانتداری کی بات یہ ہے۔ہم اس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ہم اربیل (کردستان کا دارالحکومت) پر بھی خاموش نہیں رہ سکتے کیونکہ وہ داعش ،بعث پارٹی ،القاعدہ اور دوسرے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا ہیڈکوارٹرز بنا ہوا ہے''۔

واضح رہے کہ نوری المالکی کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کی وجہ سے ان کے اور کرد صدر مسعود بارزانی کے تعلقات میں پہلے ہی رخنہ پڑ چکا ہے اور موخرالذکر رہ نما عراقی وزیراعظم کو ملک میں جاری بحران اور موجودہ صورت حال کا ذمے دار ٹھہرا رہے ہیں جس کے نتیجے میں عراق کی نسلی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔